Gas Leakage Web ad 1

نماز میں خيالات کا آنا کیسا ہے؟

نماز میں خيالات کا آنا کیسا ہے؟

0

نماز میں خیالات کا آنا ایک عام مسئلہ ہے۔ اس کے متعلق شریعت کی رہنمائی درج ذیل ہے:

Gas Leakage Web ad 2

نماز کے آداب میں سے ہے کہ اسے پوری یکسوئی، توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے۔ نماز کے دوران یہ تصور ہو کہ گویا اللہ رب العزت کو دیکھ رہا ہوں، یا کم از کم یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور میں اس سے مناجات کر رہا ہوں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی کڑی نگرانی کا فیصلہ

اگر غیر اختیاری طور پر خیالات آ جائیں تو جیسے ہی یاد آئے فوراً نماز کی طرف متوجہ ہو جائیں اور خیالات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اس کوشش کے باوجود اگر کوئی غیر اختیاری خیال آئے تو اس پر مواخذہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے نماز فاسد ہوتی ہے۔ البتہ نماز میں جان بوجھ کر دنیاوی خیالات لانا یا توجہ کے باوجود قصداً ان میں منہمک رہنا منع ہے اور اس سے نماز کے اجر و ثواب میں کمی ہوتی ہے۔

نماز میں خیالات سے بچنے کے لیے ان باتوں کا اہتمام کریں:

1. طہارت کا اہتمام کریں، یعنی استنجا اور وضو سنت و آداب کی مکمل رعایت رکھتے ہوئے کریں، نیز کپڑوں کی پاکیزگی کا بھی خیال رکھیں۔

2. جماعت شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے مسجد پہنچ جائیں، نماز سے پہلے کی سنتیں ادا کریں، اور انتظار کے دوران دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا تصور کریں کہ ابھی مالک الملک کے دربار میں حاضری ہے۔

3. اس دھیان سے ہر نماز ادا کریں کہ ممکن ہے یہ آخری نماز ہو اور دوبارہ موقع نہ ملے۔

4. نماز کے دوران جو کچھ پڑھا جائے، اس کے الفاظ اور معانی پر دھیان رکھیں۔ خاص طور پر سورہ فاتحہ پڑھتے وقت اس حدیث قدسی کو ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ سورہ فاتحہ کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم فرماتا ہے اور ہر آیت کے جواب میں بندے کی دعا کو قبول فرماتا ہے۔

5. ہر رکن ادا کرتے وقت اس کی سنتوں اور آداب کا خیال رکھیں، مثلاً رکوع میں نگاہ دونوں پاؤں کی انگلیوں پر ہو، کہنیاں پہلو سے جدا ہوں، اور گھٹنوں کو ہاتھ کی انگلیوں سے پکڑا ہوا ہو۔

6. جس عمل میں مشغول ہوں اس کے بعد آنے والے عمل کی طرف توجہ رہے۔

ان باتوں کا اہتمام کرنے سے ان شاء اللہ نماز میں دھیان برقرار رہے گا۔ ابتدا میں محنت کرنی ہوگی، لیکن آہستہ آہستہ مشق ہو جائے گی اور دھیان بھی نہیں بٹے گا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.