تہران: مجلس خبرگان کے ایک رکن نے کہا ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے معاملے پر اکثریتی اتفاق رائے ہو چکا ہے۔
مجلس خبرگان کے رکن آیت اللہ محمد مہدی میرباقری نے ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر کو بتایا کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے کافی پیش رفت ہو چکی ہے، تاہم اس عمل میں ابھی کچھ رکاوٹیں باقی ہیں جنہیں دور کیا جا رہا ہے ۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹرسٹی بس کرایوں میں بھی اضافہ
ایرانی میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان کے ایک اور رکن آیت اللہ محسن حیدری آل کثیر نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ارکان کا روایتی اجلاس منعقد کرنا ممکن نہیں، تاہم ایک امیدوار پہلے ہی منتخب کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخاب خامنہ ای کی اس نصیحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کہ ایران کا سپریم لیڈر ایسا ہونا چاہیے جسے دشمن پسند نہ کرے بلکہ اس سے خوفزدہ ہو ۔
آیت اللہ حیدری آل کثیر نے کہا کہ "یہاں تک کہ شیطان اعظم (امریکا) نے بھی اس کا نام لیا ہے”، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دن پہلے خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کے ممکنہ سپریم لیڈر کے طور پر قبول نہ کرنے کا عندیہ دیا تھا ۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر مجلس خبرگان کے ارکان نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے اجلاس منعقد کرتے ہیں تو انہیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ ایرانی میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان کے ایک اور رکن حجت الاسلام جعفری نے کہا ہے کہ ایرانی عوام جلد ہی اس فیصلے سے مطمئن ہوں گے اور نئے رہنما کے انتخاب میں تاخیر سب کے لیے پریشان کن ہے لیکن موجودہ حالات میں احتیاط ضروری ہے ۔
واضح رہے کہ ایران کے آئین کے مطابق ملک کے سپریم لیڈر کا انتخاب 88 رکنی مجلس خبرگان کرتی ہے ۔ علی خامنہ ای جو تقریباً 37 سال تک ایران کے سپریم لیڈر رہے، وہ 28 فروری کو تہران میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے ۔