اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی کوششیں رنگ لے آئیں اور سندھ حکومت نے گاڑیوں کے لیے ‘تھرڈ پارٹی انشورنس’ لازمی قرار دے دیا ہے۔
سندھ حکومت نے موٹر وہیکل ایکٹ میں ترامیم متعارف کروا دی ہیں جس کے بعد اب صوبے بھر میں ہر قسم کی گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر وہیکل انشورنس کروانا لازمی ہو گیا ہے۔ یہ انشورنس موٹر وہیکل رجسٹریشن ایکٹ کے صوبائی قانون کا حصہ ہے، جس کے تحت سڑک پر حادثے کی صورت میں گاڑی سے کسی تیسرے شخص کو نقصان پہنچنے پر متاثرہ فرد کو بیمہ کی رقم ادا کی جاتی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بھارتی ٹیم توہم پرستی کا شکار، جیت کیلیے ہوٹل ہی تبدیل کرلیا
ایس ای سی پی اس قانون کے لازمی نفاذ اور بیمہ کی رقم میں مناسب اضافے کے لیے وہیکل رجسٹریشن ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا۔ اس قانون کے مؤثر نفاذ سے حادثات کا شکار ہونے والے افراد کی مدد یقینی بنائی جا سکتی ہے اور ملک میں انشورنس کی مجموعی شمولیت میں بھی اضافہ ممکن ہے۔
سندھ اب پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں عوامی تحفظ کے اس قانون کو منظم طریقے سے نافذ کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں وہیکل رجسٹریشن ایکٹ میں ترامیم کے بعد اب کوئی بھی گاڑی اس انشورنس کے بغیر رجسٹر نہیں ہو سکے گی، نہ کسی دوسرے کے نام ٹرانسفر کی جا سکے گی اور نہ ہی انشورنس کے بغیر گاڑی کا سالانہ ٹوکن ٹیکس جمع ہو سکے گا۔
تھرڈ پارٹی انشورنس ایک سستی اور بنیادی بیمہ پالیسی ہے جو اس صورت میں کام آتی ہے جب کسی کی گاڑی سے کسی دوسرے شخص کا جانی یا مالی نقصان ہو جائے۔ ترامیم کے بعد اب حادثے میں انتقال کی صورت میں سات لاکھ روپے اور مستقل معذوری کی صورت میں پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔
تھرڈ پارٹی موٹر وہیکل انشورنس کے قانون کے مؤثر اور شفاف نفاذ کے لیے ایس ای سی پی نے ایک سنٹرل الیکٹرانک ڈیٹا بیس بھی تیار کیا ہے جہاں تمام انشورنس پالیسیوں کا ریکارڈ موجود ہوگا اور گاڑی کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے وقت انشورنس کی آن لائن تصدیق کی جا سکے گی۔
ایس ای سی پی پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ساتھ بھی مل کر کام کر رہا ہے تاکہ پنجاب وہیکل رجسٹریشن ایکٹ میں بھی ترامیم کر کے معاوضے کی رقم میں اضافہ اور قانون کو لازمی قرار دیا جا سکے۔ ایس ای سی پی نے سندھ حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دیگر صوبے بھی عوام کی حفاظت کے اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے جلد اقدامات کریں گے۔