Gas Leakage Web ad 1

کیا سال کے آخر میں حاصل ہونے والے مال پر زکوٰۃ لاگو ہوگی؟

کیا سال کے آخر میں حاصل ہونے والے مال پر زکوٰۃ لاگو ہوگی؟

0

آپ چونکہ پہلے سے صاحبِ نصاب ہیں اور رمضان المبارک میں اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، لہٰذا زکوٰۃ کی ادائی کی تاریخ سے کچھ وقت پہلے بھی اگر مزید مال آپ کے پاس آیا تو اس پر بھی زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ مال کے ہر حصے پر علیحدہ سال گزرنا شرط نہیں ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

شیخ الاسلام علامہ ابوبکر بن علی بن محمد الحداد یمنی لکھتے ہیں: "جو شخص مالکِ نصاب ہے، اگر درمیان سال میں کچھ اور مال اُسی جنس کا حاصل کرے تو اُسے پہلے سے موجود مال میں ملا کر اُس کی زکوٰۃ ادا کرے، خواہ وہ مال اُس کے پہلے مال سے ملا ہو یا میراث، ہبہ یا کسی اور جائز ذریعے سے حاصل ہوا ہو، شرط صرف یہ ہے کہ اُسی جنس سے ہو۔” (الجوہرۃ النیرۃ، ص:173)

امریکی سینیٹ میں ایران پر حملوں کیلئے کانگریس سے منظوری لینےکی قرارداد مسترد

تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: "سال کے وسط میں جو بھی مال حاصل ہو خواہ ہبہ کی صورت میں ہو، خرید و فروخت، میراث یا وصیت کی صورت میں ہو، اُسے ہم جنس نصاب میں شامل کیا جائے گا، پھر اصل سال کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔”

اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: "اگر کوئی شے سال کے اختتام سے حاصل ہوئی خواہ ایک دن ہی پہلے ہو، اُسے پہلے سے موجود نصاب میں ملا کر تمام مال کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔” (ردالمحتار علی الدرالمختار، جلد 2، ص:288)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر مال پر (خواہ وہ نقد رقم ہو یا سونا چاندی کی صورت میں ہو یا صنعت و تجارت کا مال ہو) سال گزرنا زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے شرط نہیں ہے۔ اگر مال کے ہر جزو پر سال گزرنے کی شرط کو لازم قرار دیا جائے تو تاجر حضرات کے لیے زکوٰۃ کا حساب نکالنا عملاً ناممکن ہو جائے گا، کیونکہ مال کی آمد و خرچ کا سلسلہ روز جاری رہتا ہے۔ بلکہ تنخواہ دار آدمی بھی ہر ماہ کی تنخواہ سے کچھ پس انداز کرتا ہے، لہٰذا مال کے ہر حصے کی مدت الگ نہیں ہوتی۔

دورانِ سال شامل ہونے والے مال کا الگ سال شمار نہیں کیا جاتا، بلکہ درمیانِ سال میں حاصل ہونے والا مال جتنا بھی ہو، جب بھی شامل ہو، اُس کا وہی سال ہے جو بنیادی نصاب کا سال ہے، بشرطیکہ درمیان میں حاصل شدہ مال مالِ سابق کی جنس میں سے ہو۔

مذکورہ بالا تشریح کی روشنی میں زکوٰۃ کی تشخیص کی مقررہ تاریخ سے چند دن قبل بھی اگر مال صاحبِ نصاب کی ملکیت میں آ جائے تو اُسے پہلے سے موجود مال میں شامل کرکے کل مالیت پر زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا اگر زکوٰۃ ادا کرنے کی مقررہ تاریخ سے پہلے آپ کو مکان کی قیمت مل گئی تھی، تو دیگر مال میں شامل کرکے آپ کو اس کی بھی زکوٰۃ دینی ہو گی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.