سینیٹ نے ورچوئل اثاثہ جات ترمیمی بل منظور کر لیا ہے۔
منظور شدہ بل کے تحت ورچوئل اثاثوں اور ان سے متعلق سروس فراہم کرنے والوں کے لائسنس، ریگولیشن اور نگرانی کے لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ یہ اتھارٹی منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور ورچوئل اثاثوں کے غیر قانونی استعمال کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے گی۔
کم لاگت ہاؤسنگ اسکیم میں اہم تبدیلیاں، قرض کی حد ایک کروڑ روپے کردی گئی
بل کے مطابق اتھارٹی پاکستان میں ورچوئل اثاثہ مارکیٹ کے صارفین اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی، ضوابط اور گائیڈ لائنز جاری کرے گی اور لائسنس جاری کرنے، معطل کرنے یا منسوخ کرنے کے اختیارات رکھے گی۔
مزید برآں اتھارٹی دیگر ممالک کی ریگولیٹری باڈیز اور ایجنسیوں کے ساتھ تعاون اور معلومات کے تبادلے کے معاہدے کر سکے گی۔ بغیر لائسنس ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے پر پانچ سال تک قید اور 50 ملین روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
یہ قانون پاکستان کے اندر اور بیرون ملک سے ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والے اداروں اور جاری کنندگان پر لاگو ہوگا۔