وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نیٹو کی افواج کے انخلاء کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ہو گا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور علاقے میں امن پر توجہ مرکوز کریں گے مگر طالبان نے افغانستان کو ہندوستان کی کالونی بنا دیا۔
سست اینڈرائیڈ فون کو تیز کرنے میں مدد فراہم کرنے والی ٹِرک
تفصیلات کے مطابق خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ساری دنیا کے دہشت گردوں کو افغانستان میں اکٹھا کر لیا اور دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا، اپنی عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا، خواتین کو جو حقوق اسلام دیتا ہے وہ چھین لیے، پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعے حالات نارمل رکھنے کی پوری کوششیں کیں۔ بھرپور سفارت کاری کی مگر طالبان ہندوستان کی پراکسی بن گئے آج جب پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو الحمداللہ ہماری افواج اس وقت فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان کا کردار مثبت رہا ہے، 50 لاکھ افغانیوں کی 50 سال سے مہمان نوازی کی، آج بھی ہماری سرزمین پر افغان لاکھوں کی تعداد میں روزی کما رہے ہیں۔ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے، اب دما دم مست قلندر ہو گا، پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ہوئی، ہم تمہارے ہمسائے ہیں تمہاری اوقات جانتے ہیں۔