خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں رمضان المبارک کے پہلے ہفتے کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں پولیس، ایف سی اور سکیورٹی فورسز کے 20 سے زائد اہلکار شہید ہوگئے۔
صوبے بالخصوص جنوبی اضلاع میں رمضان کے دوران دہشتگردی کے مسلسل واقعات پیش آئے ہیں، جن میں 13 پولیس اہلکار شہید اور 10 زخمی ہوئے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے اولمپین سمیع اللہ کو چیف سلیکٹر مقرر
کوہاٹ میں پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعے میں 7 پولیس اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوئے۔ دریں اثنا، ڈیرہ اسماعیل خان سے متصل بھکر کی حدود میں واقع داجل پولیس چیک پوسٹ پر ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے۔
بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر کیے گئے خودکش حملے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت 4 فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ ایف سی کی لائن پر کیے گئے ایک حملے میں 8 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
رمضان کے پہلے ہفتے میں ہی کرک کے علاقے بہادر خیل میں شدت پسندوں نے ایک ایمبولینس پر حملہ کیا، جس میں 3 ایف سی اہلکار شہید کر دیے گئے۔ کرک میں ایف سی کے قلعے پر کیے گئے ایک اور حملے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں بھی ایک پولیس اہلکار کو شہید کر دیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق، رمضان المبارک میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ انہی کوششوں کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک خاتون خودکش حملہ آور کو گرفتار کرنے میں بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔