حکومت سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ اور متعلقہ اداروں میں گورننس اور ڈیجیٹائزیشن کو بہتر بنانے کے لیے اہم اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔
وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین نے اسلام آباد میں پاکستان گورننس فورم-2026 کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری پالیسیوں کی مدت طے ہونی چاہیے تاکہ کاروباری برادری کو پالیسیوں کے استحکام کا یقین حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل سے سرمایہ کاروں کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی آسان ہوگی اور اگر کوئی سرمایہ کاری کرنا چاہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آئندہ پانچ سے دس سال تک پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔
وفاقی وزرا سندھ حکومت کیخلاف سازشیں کررہے ہیں، قیادت وفاق سے جواب طلب کرے: شرجیل میمن
انہوں نے بتایا کہ اسپین حکومت کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں تقریباً 20 ہزار پاکستانیوں کو قانونی حیثیت دینے اور رہائشی اجازت نامے فراہم کرنے پر پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک روزگار کے مواقع بڑھانے سے نوجوان باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی بھیج سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ عرصے میں ترسیلات زر میں تاریخی اضافہ ہوا ہے اور وزارت کی کوششوں سے گزشتہ سال بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو بیرون ملک روزگار فراہم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے دوروں اور متعلقہ وزراء سے ملاقاتوں کے بعد حکومت بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کو سافٹ سکلز کی تربیت دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ وہ غیر ملکی قوانین اور پیشہ ورانہ ضروریات سے مکمل طور پر واقف ہوں۔
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوٹ میں 12 سے 13 سال پرانے زیر التواء کیسز کے حل کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں جس سے ادارے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ میں بھی اصلاحات جاری ہیں تاکہ مزدوروں کو بہتر سہولیات مل سکیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے اور بیورو آف امیگریشن میں شکایات کے ازالے کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ وزارت کے تحت تمام متعلقہ دفاتر، بشمول پروٹیکٹرٹ، اسی سال مکمل طور پر ڈیجیٹل کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جو افراد بیرون ملک بھیک مانگنے یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوں گے، ان کے پاسپورٹ پانچ سے دس سال کے لیے بلاک کیے جا سکتے ہیں اور اس حوالے سے کئی ہزار افراد کے خلاف کارروائی بھی کی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے تقریباً 90 فیصد کیسز جائیداد سے متعلق ہیں، جن کے حل کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں جہاں فیصلے 90 دن کے اندر کیے جائیں گے اور آن لائن سماعت کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام صوبوں میں اسی نوعیت کی عدالتوں کے قیام پر کام جاری ہے جبکہ پنجاب میں یہ عمل آخری مراحل میں ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزارت سمندر پار پاکستانیز کے اسٹال پر آنے والے شہریوں نے گورننس اور اصلاحات کے اقدامات کو سراہا ہے۔