تیسرے اقتصادی جائزے کے لیے **بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)** کا جائزہ مشن پاکستان پہنچ گیا ہے۔ یہ دورہ 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے آر ایس ایف پروگرام کے دوسرے جائزے سے متعلق مذاکرات کا حصہ ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: شاداب خان کے سسر ثقلین مشتاق ناقص بولنگ پر ان کا دفاع کرنے لگے
پہلے مرحلے میں آج تکنیکی ڈیٹا **کراچی** میں شیئر کیا جائے گا جہاں **اسٹیٹ بینک آف پاکستان** کے حکام زرمبادلہ کے ذخائر، مانیٹری پالیسی، شرح سود، اینٹی منی لانڈرنگ اور اینٹی ٹیرر فنانسنگ اہداف پر بریفنگ دیں گے۔
تکنیکی اور پالیسی سطح کے مذاکرات پیر سے **اسلام آباد** میں شروع ہوں گے جہاں وزارت خزانہ اور دیگر متعلقہ وزارتیں بجٹ، ٹیکس اصلاحات اور نئے مالیاتی پلان پر مشاورت کریں گی۔
حکام کے مطابق آئی ایم ایف مشن 11 مارچ 2026 تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ہے۔
زیرجائزہ عرصے میں پرائمری سرپلس اور صوبائی کیش سرپلس میں بہتری آئی تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کرسکا اور 329 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا۔ توانائی شعبے میں اصلاحات، نجکاری اقدامات اور گورننس و کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ پر عملدرآمد کا لائحہ عمل بھی مشن کو پیش کیا جائے گا۔