زکوٰۃ اور صدقۂ فطر (فطرانہ) دونوں الگ الگ مالی عبادات ہیں، ایک کی ادائیگی سے دوسری ادا نہیں ہوتی کیونکہ دونوں کا نصاب اور وقت مختلف ہے۔
صدقۂ فطر ہر اُس مسلمان پر لازم ہوتا ہے جو عیدالفطر کی صبح صادق (یکم شوال) کے وقت اپنی بنیادی ضروریات سے زائد اتنے مال یا سامان کا مالک ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ یہ ادائیگی اپنی طرف سے اور زیرِ کفالت نابالغ اولاد کی طرف سے بھی کی جاتی ہے۔ اس کے وجوب کے لیے مال پر سال گزرنا شرط نہیں ہے۔ فطرانہ عیدالفطر کی نماز سے پہلے ادا کرنا مستحب ہے، تاہم عید سے قبل رمضان میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کا ہزارہ ڈویژن کیلیے 200 ارب کے خصوصی پیکج کا اعلان
زکوٰۃ صرف مالِ نامی پر فرض ہوتی ہے، یعنی سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور چرنے والے مویشی وغیرہ۔ اگر ان اموال میں سے کسی ایک یا مجموعی طور پر ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے اور وہ بنیادی ضروریات سے زائد ہو تو زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی اُس وقت فرض ہوتی ہے جب نصاب پر قمری سال مکمل ہو جائے۔