سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کے لیے 200 ارب روپے پر مشتمل خصوصی جامع ترقیاتی پیکج تشکیل دیا جائے گا جس میں 50 ارب روپے سیاحت کے فروغ کے منصوبوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔
سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے سکیورٹی واپس لے لی گئی، کے پی حکومت کی تردید
وزیراعلیٰ نے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ہزارہ ڈویژن کے پارلیمنٹیرینز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پیکج کے تحت ہری پور سے مانسہرہ جی ٹی روڈ کی دو رویہ توسیع کے منصوبے میں صوبائی حکومت بھی مالی معاونت فراہم کرے گی۔ اجلاس میں وفاقی حکومت سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر انتظام جی ٹی روڈ کی توسیع کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبہ بندی کو عوامی ضروریات کے مطابق جدید اور مؤثر بنایا جائے گا اور بڑے عوامی اہمیت کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جاری ترقیاتی اسکیموں کو بروقت مکمل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ شہری جلد ان کے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اعلامیے کے مطابق خصوصی ترقیاتی پیکج کی تجاویز کے لیے پارلیمنٹیرینز کی الگ مشاورتی نشست بھی منعقد کی جائے گی تاکہ مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل عمل اور پائیدار منصوبے تیار کیے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ الائی کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا تاکہ انتظامی امور عوام کے قریب لائے جا سکیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی رہنما عمران خان کے وژن کے مطابق صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے گی اور صوبے کے پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ مالی سال کی ترقیاتی منصوبہ بندی سے پہلے تمام منصوبوں کے پی سی ون اور ابتدائی تخمینہ دستاویزات مکمل کی جائیں تاکہ وسائل کا شفاف استعمال یقینی بنایا جا سکے۔