عالمی مالیاتی فنڈ کا جائزہ مشن تیسرے ششماہی جائزے کے لیے کل سے پاکستان کا دورہ کرے گا۔ وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق آئی ایم ایف مشن 11 مارچ تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ دورے کے پہلے مرحلے میں کراچی اور بعد ازاں اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے جہاں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
سپریم کورٹ: نجی فریقین کے تنازع پر خیبر پختونخوا حکومت اور محتسب کی اپیلیں خارج
حکام کے مطابق مشن آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بنیادی خدوخال، صوبائی اور مجموعی مالیاتی فریم ورک اور اصلاحات کے ایجنڈے پر بات کرے گا۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریونیو کے سوا بیشتر اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں جبکہ ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی درخواست آئی ایم ایف کے ساتھ زیر غور ہے۔ جائزہ مشن قرض پروگرام کے تحت جولائی سے دسمبر تک کی معاشی کارکردگی کا بھی جائزہ لے گا۔
مالی حکام کے مطابق بجٹ 2026-27 کے بنیادی خدوخال اور مالیاتی فریم ورک پر بھی بات چیت ہوگی۔ حالیہ سیلاب سمیت دیگر مشکلات کے باوجود قرض پروگرام کو ٹریک پر برقرار رکھا گیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس محاصل کے حوالے سے شارٹ فال موجود ہے، جس کے تحت پہلے چھ ماہ میں 329 ارب روپے اور سات ماہ میں 372 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہا۔ سالانہ ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سپر ٹیکس سے اضافی آمدن حاصل ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رواں سال ٹیکس ہدف پہلے 14131 ارب روپے سے کم کرکے 13979 ارب روپے کیا جا چکا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مالیاتی اہداف، ٹیکس وصولی، توانائی شعبے کی اصلاحات، گورننس اور انسداد بدعنوانی کے اقدامات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ مشن کو قومی احتساب بیورو سمیت اہم اداروں میں تقرریوں کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ کرپشن کی روک تھام کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان کے سیل کو مزید مضبوط بنانے سمیت اصلاحات کے ایکشن پلان پر بریفنگ دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام، مہنگائی کی صورتحال، کرنٹ اکاؤنٹ اور سماجی تحفظ کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ پرائمری فیسکَل سرپلس جی ڈی پی کے تقریباً 1.3 فیصد تک حاصل کیا گیا ہے جبکہ صوبوں نے مجموعی طور پر 1180 ارب روپے کا کیش سرپلس فراہم کیا ہے۔ صوبائی ٹیکس وصولی کے اہداف بھی حاصل کیے جا چکے ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس برقرار ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر پروگرام کے ہدف سے زیادہ سطح پر موجود ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق بڑے پیمانے کی صنعتوں میں جولائی سے نومبر کے دوران تقریباً 6 فیصد گروتھ ریکارڈ ہوئی ہے۔ یہ دورہ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ پروگرام پروگراموں کے تسلسل کے لیے اہم ہے جن کا مجموعی حجم 8.4 ارب ڈالر ہے اور اب تک پاکستان کو ان پروگراموں کے تحت 3.3 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔