رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ سینٹرل ایشیا کا متبادل روٹ بنا لیا گیا ہے جبکہ افغانستان کی صورتحال کے باعث پہلے روٹ کا مسئلہ درپیش تھا، آلو کی برآمد کے لیے ازبکستان کے ساتھ 50 ہزار میٹرک ٹن کا معاہدہ کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی کا اجلاس سید حسنین طارق کی زیر صدارت ہوا جس میں سیکرٹری محکمہ زراعت پنجاب افتخار سہو نے بذریعہ زوم شرکت کی۔
عمران خان کا پمز اسپتال میں آنکھوں کا دوسرا معائنہ، انجیکشن کی دوسری خوارک دیدی گئی
سیکرٹری زراعت پنجاب نے بتایا کہ گزشتہ سال پنجاب میں 9 لاکھ ایکڑ اور اس سال 11 لاکھ ایکڑ پر آلو کاشت کیا گیا، دو لاکھ ایکڑ اضافی پیداوار ایک مسئلہ بن گئی ہے جبکہ بارڈر بند ہونے سے بھی مشکلات پیدا ہوئیں، گزشتہ دو ماہ سے وفاقی حکومت سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ آلو خرید کر اس کی اسٹوریج کرے، اس معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔
اس موقع پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ گزشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی ایکسپورٹ ہوگی اور محکمہ زراعت کو ایڈوائزری جاری کرنی چاہیے کہ آلو کتنی مقدار میں کاشت کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل ایشیا کا متبادل روٹ بنا لیا گیا ہے، افغانستان میں حالات کے باعث پہلے روٹ کا مسئلہ تھا، آلو کی برآمد کے لیے ازبکستان سے 50 ہزار میٹرک ٹن کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ویلیو ایڈیشن پر کام نہیں ہو رہا جبکہ اسٹارچ میں بہت پوٹینشل موجود ہے جس پر توجہ نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ چین کا روٹ مناسب ہے لیکن اس کے لیے ملٹی پل ویزہ درکار ہے جبکہ فی الحال ون وے ویزہ ملتا ہے، اس حوالے سے سفارشات ترتیب دے دی گئی ہیں اور اسحاق ڈار فیصلہ کریں گے، آلو کی برآمد کے لیے روس کے ساتھ بات چیت کامیاب نہیں ہو سکی۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پنجاب میں 800 کولڈ اسٹوریج موجود ہیں اور اگر سنجیدگی دکھائی جائے تو مسئلے کا حل نکل سکتا ہے، تاہم بتایا گیا کہ کولڈ اسٹوریج نجی شعبے کی ملکیت ہیں اور آلو کی اسٹوریج لاگت زیادہ ہے۔
اجلاس میں رانا تنویر حسین نے مزید کہا کہ زیتون کی پیداوار میں پاکستان میں وسیع پوٹینشل موجود ہے، خصوصاً بلوچستان، پوٹھوہار اور خیبر پختونخوا میں، اور معیار کے اعتبار سے پاکستان زیتون کی پیداوار میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل اولیو کونسل میں پاکستان آبزرور کی حیثیت رکھتا ہے، زیتون کی برآمد جاری ہے اور ایکسپورٹس آدھے ملین تک پہنچ چکی ہیں۔