بیرسٹر گوہر ’عمران خان رہائی فورس‘ کی تشکیل روکنے کیلئے میدان میں آگئے

بیرسٹر گوہر ’عمران خان رہائی فورس‘ کی تشکیل روکنے کیلئے میدان میں آگئے

0

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو ایک متنازع منصوبے ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ کے قیام سے روکنے کے لیے مداخلت کی ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق یہ مداخلت براہ راست اور سینئر رہنماؤں کے ذریعے ایسے وقت میں کی گئی جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جیل میں قید پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے ایک مخصوص فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے دوٹوک انداز میں وزیر اعلیٰ کو خبردار کیا کہ کسی بھی ایسے گروپ کا قیام جسے ’’فورس‘‘ کہا جائے، خصوصاً اگر اس کے ارکان سے کسی سیاسی مقصد کے لیے حلف لیا جائے، تو اسے غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اسے عسکریت پسندی کے زمرے میں بھی شمار کیا جائے۔

حکومت کا پی ٹی آئی فوبیا پر مشتمل 40 ارب کا فائر وال منصوبہ ناکام ہوچکا: شیخ وقاص

اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا تاکہ پارٹی اور اپوزیشن اتحاد کے اندر اس اقدام کے خلاف سیاسی ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔

سیاسی حلقوں میں اس تجویز کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ نے 22 فروری کو مجوزہ فورس کے ارکان سے حلف لینے کا ارادہ کیا تھا تاہم اندرونی اعتراضات کے بعد آخری لمحے پر اس اقدام کو مؤخر کر دیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ وزیر اعلیٰ رمضان کے بعد حلف برداری کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما نجی سطح پر تسلیم کرتے ہیں کہ اس منصوبے نے مرکزی قیادت میں تشویش پیدا کی کیونکہ کسی نیم تنظیمی فورس کی تشکیل پارٹی کو قانونی کارروائی اور محاذ آرائی کے الزامات کی زد میں لا سکتی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے مبینہ طور پر مشورہ دیا کہ اگر عمران خان کی رہائی کے لیے متحرک ہونا ضروری ہو تو صوبائی، علاقائی اور ضلعی سطح پر قانونی سیاسی کمیٹیاں قائم کی جائیں جیسا کہ ماضی کی سیاسی تحریکوں میں کیا جاتا رہا ہے تاکہ آئینی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

یہ معاملہ حالیہ سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا جہاں شرکا کو اس موضوع پر عوامی سطح پر تبصرہ نہ کرنے کی ہدایت دی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیادت ممکنہ اندرونی تنازع کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ پیش رفت پی ٹی آئی کے اندر حکمت عملی کے حوالے سے بڑھتے اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک جانب بعض رہنما جارحانہ انداز اپنانے کے حامی ہیں جبکہ دیگر محتاط اور قانونی طور پر قابل دفاع راستہ اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو رہائی فورس قائم کرنے کا آئیڈیا روپوش پی ٹی آئی رہنما مراد سعید نے دیا۔ سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے منصب کے لیے مراد سعید کا نامزد کردہ امیدوار سمجھا جاتا ہے جبکہ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان انہیں ذاتی طور پر پہلے نہیں جانتے تھے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.