پختونخوا پولیس میں گھوسٹ ملازمین کا اسکینڈل، کسی کو سزا ملی نہ ریکوری ہوئی

پختونخوا پولیس میں گھوسٹ ملازمین کا اسکینڈل، کسی کو سزا ملی نہ ریکوری ہوئی

0

پشاور: خیبر پختونخوا پولیس میں گھوسٹ ملازمین کے ایک بڑے نیٹ ورک کے انکشاف کے باوجود متعلقہ پولیس حکام کی جانب سے تاحال کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔

اس اسکینڈل میں یہ بات سامنے آئی کہ پشاور میں جعلی تنخواہوں کی مد میں سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے نکلوائے جاتے رہے، مگر اب تک نہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی، نہ رقوم کی ریکوری ہوئی اور نہ ہی کسی کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی گئی۔

محمود اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی تقرر وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج

تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ صرف پشاور پولیس میں کم از کم 30 غیر موجود اہلکاروں کے نام پر تنخواہیں جاری کی جا رہی تھیں۔

اس حوالے سے پولیس کے ترجمان نے جنگ کو بتایا کہ انکوائری پر کارروائی جاری ہے، تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی جبکہ خرد برد کی گئی رقم بھی واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں وقت لگتا ہے تاہم کیس میں کارروائی جاری ہے۔ اس اسکینڈل میں مبینہ طور پر نیٹ ورک نے برطرف ملازمین کے سروس کوڈز دوبارہ استعمال کیے۔

سرکاری دستاویزات میں جعلسازی کی گئی، جعلی بینک اکاؤنٹس کھولے گئے اور اندرونی نظام کو منظم انداز میں استعمال کرتے ہوئے کئی برسوں تک لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے خرد برد کیے گئے۔ تاہم انکوائری رپورٹ مبینہ طور پر انسپکٹر جنرل کے دفتر سے غائب کر دی گئی، جس کے باعث بااثر افراد کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی۔

مسلسل عدم کارروائی نے شفافیت اور اندرونی نگرانی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں اور یہ معاملہ نہ صرف پولیس محکمے بلکہ صوبائی سرکاری ملازمین کے پورے نظام حکمرانی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

دستاویزات کے مطابق ابتدائی تحقیقات 2023 سے 24 کے دوران پشاور کے علاقے حسن خیل میں شروع کی گئیں، جہاں ڈی ڈی او کوڈز PR 8112 اور PR 4093 کے تحت درج ملازمین کی جانچ پڑتال کی گئی۔

یہ افراد باقاعدگی سے ماہانہ تنخواہیں وصول کر رہے تھے، حالانکہ حقیقت میں ان میں سے کئی کا پولیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.