محمود اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی تقرر وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج

محمود اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی تقرر وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج

0

محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی پاکستان تقرری کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

بانی رکن اکبر ایس بابر نے درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قائد حزب اختلاف کا عہدہ جوڈیشل کمیشن اور الیکشن کمیشن کی اہم تقرریوں میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت سزا یافتہ یا نااہل قرار دیا جانے والا شخص اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے نامزد نہیں ہو سکتا، اس لیے محمود اچکزئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

پنجاب اسمبلی میں ن لیگ پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل شخص اپوزیشن لیڈر نامزد نہیں ہو سکتا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے رول 39 (3) کے تحت ارکان کے دستخطوں کی آزادانہ تصدیق کرنے کا عمل مکمل نہیں کیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ ماضی میں استعفوں کی تصدیق کے لیے اسپیکر ارکان کو ذاتی طور پر طلب کرتے رہے ہیں، تاہم اس بار طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ قائد حزب اختلاف کا عہدہ جوڈیشل کمیشن اور الیکشن کمیشن کی اہم تقرریوں میں بنیادی کردار رکھتا ہے اور دستخطوں کی تصدیق کے بغیر جاری کیا جانے والا نوٹیفکیشن محض ایک غلطی نہیں بلکہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.