اسلام آباد، 23 فروری 2026: Oil & Gas Development Company Limited کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پیر 23 فروری 2026 کو منعقدہ اجلاس میں 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی ششماہی مدت کے مالی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے 4 روپے 25 پیسے فی شیئر (42.50 فیصد) دوسرا عبوری نقد منافع منظور کر لیا، جو کمپنی کی تاریخ کا سب سے زیادہ دوسرا سہ ماہی منافع ہے۔ اس اعلان کے بعد ششماہی مدت کے لیے مجموعی عبوری منافع 7 روپے 75 پیسے فی شیئر ہو گیا ہے، جو کمپنی کی تاریخ میں نصف سال کا سب سے بڑا منافع ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی صحافی نادر بلوچ کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت
او جی ڈی سی ایل نے 192 ارب 83 کروڑ روپے کی خالص فروخت آمدن اور 73 ارب 1 کروڑ 90 لاکھ روپے بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا، جس کے نتیجے میں فی شیئر آمدن 16 روپے 98 پیسے رہی۔ ششماہی نتائج پر ایس این جی پی ایل اور یو پی ایل کی جانب سے سسٹم لوڈ کی پابندیوں کے باعث جبری پیداواری کمی اور خام تیل کی اوسط باسکٹ قیمت میں کمی کے اثرات مرتب ہوئے، تاہم گیس کی بہتر حاصل شدہ قیمتوں اور شرح مبادلہ میں تبدیلی نے ان اثرات کو جزوی طور پر متوازن کیا۔
اس مدت کے دوران کمپنی نے کارپوریٹ ٹیکس، منافع، رائلٹی اور دیگر سرکاری محصولات کی مد میں قومی خزانے میں 120 ارب روپے جمع کرائے، جبکہ تیل اور گیس کی پیداوار کے ذریعے درآمدی متبادل کی صورت میں اندازاً 1.4 ارب امریکی ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ممکن بنائی۔
ششماہی مدت میں یومیہ اوسط خالص قابل فروخت پیداوار 31 ہزار 848 بیرل خام تیل، 626 ملین مکعب فٹ قدرتی گیس اور 636 ٹن ایل پی جی رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ اعداد و شمار بالترتیب 31 ہزار 477 بیرل، 672 ملین مکعب فٹ اور 629 ٹن تھے۔ اس عرصے میں پیداواری پابندیوں کے باعث یومیہ خالص پیداوار میں 3 ہزار 384 بیرل تیل، 152 ملین مکعب فٹ گیس اور 51 ٹن ایل پی جی کی کمی واقع ہوئی۔
عملی لحاظ سے کمپنی نے اس عرصے میں پانچ کنوؤں کی کھدائی کا آغاز کیا، جبکہ جاری تلاش کی سرگرمیوں کے نتیجے میں تیل اور گیس کے چار نئے ذخائر دریافت ہوئے، جس سے کمپنی کے وسائل میں مزید اضافہ ہوا۔ کمپنی نے اکتوبر 2025 کی بولی کے مرحلے میں آٹھ آف شور بلاکس کے لیے پٹرولیم تلاش کے حقوق بھی حاصل کیے۔
ترقیاتی شعبے میں جھل مگسی منصوبہ کامیابی سے مکمل کر کے پیداوار شروع کر دی گئی ہے، جہاں سے اس وقت تقریباً 14 ملین مکعب فٹ یومیہ گیس کے ساتھ کنڈینسیٹ بھی حاصل ہو رہا ہے، جبکہ ڈکھنی کمپریشن منصوبہ مقررہ وقت سے قبل مکمل کر لیا گیا ہے۔ دیگر اہم کمپریشن منصوبے بھی منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہیں۔
کمپنی کی فروخت آمدن پر تقریباً 36 ارب 46 کروڑ 80 لاکھ روپے کا اثر پڑا، جو بنیادی طور پر پیداوار میں کمی اور خام تیل و ایل پی جی کی کم حاصل شدہ قیمتوں کے باعث تھا، تاہم گیس کی بہتر قیمتوں اور شرح مبادلہ میں تبدیلی نے جزوی تلافی کی۔ وصولیوں کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی، جہاں گیس واجبات کی وصولی 156 فیصد اور مجموعی واجبات کی وصولی 125 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے سابقہ اضافے کے رجحان کا خاتمہ ہوا۔
پائیداری کے سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے او جی ڈی سی ایل ماحولیاتی، سماجی اور طرز حکمرانی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے، موسمیاتی متعلقہ انکشافات کو فروغ دے رہی ہے اور اپنی کارروائیوں اور ویلیو چین میں ای ایس جی اصولوں کو مربوط کر رہی ہے۔
بورڈ نے انتظامیہ کی جانب سے آپریشنل کارکردگی، مالی نظم و ضبط اور شیئر ہولڈرز کو بہتر منافع کی فراہمی پر مسلسل توجہ کو سراہا، جس کے نتیجے میں کمپنی پاکستان کے تلاش و پیداوار کے شعبے میں اپنی قیادت برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کے بلند ترین دوسرے سہ ماہی اور ششماہی منافع کا اعلان کرنے میں کامیاب رہی۔