اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکومت کو بھی عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو عام آدمی کو ملتا ہے، حکومت کوئی انوکھا سائل نہیں، اسے بھی عام شہری کی طرح قانون ماننا پڑے گا۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ہاکی فیڈریشن کے الزامات کا بھانڈا پھوڑ دیا
سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک نے سروس ٹربیونل فیصلے کے خلاف حکومت کی زائد المیعاد اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی اپیل زائد المیعاد قرار دے کر خارج کرتے ہوئے تاخیر معاف کرنے کی حکومتی استدعا بھی مسترد کر دی۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ریاست شہریوں سے تو قانون منواتی ہے لیکن خود بہانے بناتی ہے، دفاتر کے اندر رولز یا انتظامی مشکل وقت کی پابندی سے اوپر نہیں ہو سکتے۔ حکومت کے مطابق افسر کے تبادلے کی وجہ سے فائلیں دفتر میں رہیں اور اپیل دائر کرنے میں دیر ہوئی۔
سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ سرکاری افسران کی کمی یا کمیٹیوں کے اجلاس نہ ہونا حکومت کا اپنا قصور ہے، ریاست اپنی نااہلی کا بوجھ عدالت پر نہیں ڈال سکتی۔ بیوروکریسی کی سستی کی سزا دوسرے فریق کو نہیں دی جا سکتی، قانون پر عملدرآمد افسران کی سہولت کے تابع نہیں بلکہ نظم و ضبط کا پابند ہونا چاہیے۔ وفاقی حکومت نے مقررہ 60 دن کی مدت گزرنے کے بعد 20 دن کی تاخیر سے اپیل دائر کی تھی۔