گورنر کے پی اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان دھرنے اور عمران خان کے علاج پر لفظی جنگ

0

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں جاری احتجاج اور اسلام آباد میں دھرنے کے معاملے پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے درمیان بیانات کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سخت تنقید کی ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کے پی ہاؤس خود خیبر پختونخوا حکومت کا حصہ ہے اور وہاں تمام سہولیات، اسٹاف اور کچن سمیت مکمل انتظامات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے صبح اپنی مرضی کے وقت آ کر دھرنا دیتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے بقول پارلیمنٹ ہاؤس میں معمول کے مطابق اجلاس اور کمیٹیوں کا کام جاری ہے اور وہاں کسی کو کھانے پینے کی کمی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ چند افراد سڑکیں بند کر کے پورے صوبے کو جام کر رہے ہیں جبکہ پنجاب اور سندھ میں معمولات زندگی جاری ہیں مگر خیبر پختونخوا بند اور متاثر ہے۔ گورنر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ راستے کھلوانے کے لیے اقدامات کرے اور سوال اٹھایا کہ چند افراد کی جانب سے سڑکیں بند کیے جانے پر کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے مریضوں اور بزرگ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی اور خاندان کی موجودگی میں ہونا ان کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود اگر علاج میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں تو یہ سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کوئی عام قیدی نہیں بلکہ سابق وزیر اعظم اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں، اس لیے ذاتی ڈاکٹرز اور اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہ دینا شکوک و شبہات بڑھا رہا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان کئی روز سے پُرامن احتجاج کر رہے ہیں اور ایک گملہ تک نہ ٹوٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ احتجاج منظم اور پرامن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر باضابطہ کال دی گئی تو عوام کو روکنا ممکن نہیں ہوگا، تاہم کال دینے کا اختیار صرف عمران خان کی نامزد کردہ قیادت کے پاس ہے۔ وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ سیاست سے بالاتر ہے اور اگر طبی رپورٹس درست ہیں تو ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی کو ملنے سے روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پُرامن دھرنا جاری ہے اور پی ٹی آئی ایک منظم سیاسی جماعت ہے، کوئی ہجوم نہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.