اسلام آباد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کھانے پینے کی چیزوں کے لیے غیر معیاری بوریوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیمنٹ والی پرانی بوریوں میں آٹا بھرنا کینسر جیسی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے کھانے پینے کی اشیاء کے لیے غیر معیاری اور استعمال شدہ بوریوں کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکام کو فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ سیمنٹ والی پرانی بوریوں میں آٹا بھرنا کینسر جیسی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے، جو شہریوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
کرپشن کیخلاف اقدامات، وزیراعظم کا ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ کا آزادانہ جائزہ لینے کا حکم
عدالت نے وفاقی وزارت خوراک اور چاروں صوبوں کو مشترکہ طور پر ایکشن لینے کی ہدایت کی۔
عدالت نے حکم دیا کہ چیف سیکریٹریز اور فوڈ اتھارٹیز اپنے اپنے علاقوں میں فیصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، جبکہ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور وزارت خوراک کو تین ماہ میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ 30 دن کے اندر ملک بھر میں غیر معیاری بوریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے اور ایسی بوریاں بنانے والی فیکٹریوں اور گوداموں پر چھاپے مار کر سامان ضبط کیا جائے۔
عدالت نے واضح کیا کہ قانون کتابوں میں سجانے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہوتا ہے، اس لیے قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف صرف جرمانہ نہیں بلکہ مقدمات درج کر کے گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جائیں۔
عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ناقص بوریوں کے استعمال سے ہر سال اربوں روپے کا آٹا ضائع ہو رہا ہے اور گزشتہ آٹھ برسوں میں لاپرواہی کے باعث قومی خزانے کو 80 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔