پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ ہماری پارٹی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ہر کوئی خود کو لیڈر سمجھتا ہے، میں بانی پی ٹی آئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑا ہوں اور جو وہ کہیں گے وہی حتمی ہوگا۔
عوام سے 11 روپے میں بجلی خرید کر عوام کو ہی 40 روپے میں فروخت کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ علی ظفر
اڈیالہ جیل روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میرا گھر ہے، ناراضگیاں، جھگڑے اور شکوے چلتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جمعرات اور جمعہ کو میں نے شکوہ کیا کہ بات کرنی ہے، میں نے کہا کہ میں مطمئن نہیں ہوں اور تقریروں میں وجوہات نہیں بتائی جاتیں، محمود خان اچکزئی پر میرے کوئی تحفظات نہیں ہیں، ان پر تحفظات رکھنے والا میں کون ہوتا ہوں۔
رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کو ابھی پارٹی میں ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگے گا، ہماری پارٹی کا اپنا ایک کلچر ہے اور ہماری پارٹی میں بانی پی ٹی آئی کے بعد ہر کوئی کہتا ہے کہ وہ لیڈر ہے۔
جنید اکبر نے کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑا ہوں، جو وہ کہیں گے وہی فائنل ہوگا، جب ہر شخص کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے تو اختلاف سامنے آتا ہے، دوسری پارٹیوں میں آمریت ہوتی ہے اسی لیے وہاں اختلاف کم ہوتا ہے، وہاں سب کو معلوم ہوتا ہے کہ مریم نواز نے وزیراعلیٰ اور شہباز شریف نے وزیراعظم بننا ہے، مریم نواز کا بیٹا کل آئے گا تو وہ وزیراعلیٰ بنے گا۔
اس سے قبل جنید اکبر نے اپنی آڈیو ٹیپ سامنے آنے پر اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا، ان کی برداشت ختم ہو چکی ہے، چیف وہپ کون ہوتا ہے جو یہ فیصلہ کرے کہ روزانہ کون بولے گا، وہ اسپیکر کو خط لکھیں گے کہ انہیں تحریک انصاف سے الگ نشست دی جائے، اور آج کے بعد وہ پارلیمانی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں۔