خیبرپختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان سے متعلق ذمہ داریاں کے پی پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر غور کے لیے کور ہیڈ کوارٹر پشاور میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کورکمانڈر پشاور نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ حکمت عملی کے تحت ایک ہی سمت میں آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔
میری رائے میں پاکستان اور بھارت واقعی شدید لڑائی لڑ رہے تھے: ٹرمپ
اجلاس کے بعد وزیر قانون خیبرپختونخوا آفتاب عالم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں امن و امان سے متعلق اہم نوعیت کے فیصلے کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان متعدد امور پر اتفاق رائے ہوا جبکہ باہمی اشتراک سے آگے بڑھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ صوبائی ایپکس کمیٹی میں طے پانے والے فیصلوں پر نیشنل ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے قبل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور نیشنل ایپکس کمیٹی میں صوبائی فیصلوں کی توثیق کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اسٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات شفیع جان نے جیو نیوز سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ اعلیٰ سطح اجلاس میں معیشت اور امن و امان سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتے ہی سروسز سول انتظامیہ کے حوالے کر دی جائیں گی۔
ادھر خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ اجلاس میں صوبے کو درپیش مالی مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا، اگر خیبر پختونخوا کو این ایف سی کے تحت واجب الادا حصہ مل جائے تو کئی بڑے مالی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے ضم اضلاع کے لیے موجودہ مالی وسائل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی مشکلات کے حل کے لیے تجاویز دی گئی ہیں اور وفاق و صوبہ مل کر متاثرہ علاقوں کے مالی نقصانات کا ازالہ کریں گے۔