عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے انہیں عدالتی نمائندہ مقرر کر دیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اور حکم دیا کہ سلمان صفدر جیل جا کر بانی پی ٹی آئی کی حالتِ زار اور انہیں دستیاب سہولیات کے حوالے سے تفصیلی تحریری رپورٹ پیش کریں۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو بھی ہدایت کی کہ ملاقات کے دوران سلمان صفدر کو کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
العلاء کانفرنس 2026 میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی اور عالمی بینک حکام سے اہم ملاقاتیں
چیف جسٹس نے سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی مسئلے کا سامنا ہو تو براہِ راست عدالت سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، اور سپرنٹنڈنٹ جیل سے بھی بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ملاقات کے بعد رپورٹ پیش کی جائے، جس کا جائزہ لے کر پرسوں سماعت ہوگی، اور سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے 5 اگست سے 18 اگست 2023 تک کی رپورٹ عدالت میں پیش کی، جو اٹک جیل میں قید کے دوران کی گئی تھی۔ وکیل لطیف کھوسہ نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ انہیں عمران خان سے ملاقات کی رسائی نہیں دی جا رہی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے پہلے ہی حکم جاری کر دیا ہے اور سلمان صفدر آج ہی ملاقات کے لیے جائیں گے۔
اس حوالے سے بیرسٹر سلمان صفدر نے تصدیق کی کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر آج دوپہر 2 بجے اڈیالہ جیل جا کر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں گے اور ملاقات کے بعد رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔