وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کا قرضہ جی ڈی پی کے 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور حکومت نے قرضوں کی مدت بڑھا کر ادائیگی کے دباؤ کو کم کیا ہے۔
ہتکِ عزت کیس؛ شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست پر 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم
وزیرِ خزانہ نے سعودی عرب کی العُلا کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ عالمی سطح پر بلند قرضے ترقی پذیر ممالک پر دباؤ ڈال رہے ہیں، تاہم پاکستان نے معاشی استحکام کے لیے سخت مگر ضروری اصلاحات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی قرضے جی ڈی پی کے تناسب سے مستحکم ہیں اور قرضوں پر سود کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان میں قرضوں کی پائیداری کے لیے شفاف نظام نافذ کیا گیا ہے، اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح تقریباً 12 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور گرین سکوک اور پائیدار فنانسنگ فریم ورک بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق قرضوں کے مسائل کا حل بروقت اقدامات، شفافیت اور مضبوط پالیسیوں میں مضمر ہے۔