جنڈر بیسڈ وائلنس ایک سنگین سماجی مسئلہ , جو پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے

گلگت میں جنڈر بیسڈ وائلنس اور انسانی حقوق پر دو روزہ آگاہی سیشن کا انعقاد

0

گلگت(مصعب خالق) یومن رائٹس کونسل آف گلگت بلتستان (HRC-GB) کے زیرِ اہتمام، گلگت بلتستان رورل سپورٹ پروگرام (GBRSP) اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF) کے خصوصی تعاون سے گلگت میں دو روزہ خصوصی آگاہی سیشن بعنوان “جنڈر بیسڈ وائلنس اور انسانی حقوق” کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔
دو روزہ سیشن میں سول سوسائٹی کے نمائندگان، وکلا، سماجی کارکنان، طلبہ و طالبات اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ سیشن کا مقصد جنڈر بیسڈ وائلنس، خواتین کے حقوق، انسانی وقار اور ذمہ دارانہ سماجی رویّوں کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان رورل سپورٹ پروگرام کے منیجر منظور احمد قریشی نے کہا کہ جنڈر بیسڈ وائلنس ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جو نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ایسے آگاہی سیشنز عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اور سماجی سطح پر مشترکہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔
صدر ہیومن رائٹس کونسل آف گلگت بلتستان ایڈووکیٹ امان علی شاہ بگورو نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنڈر بیسڈ وائلنس انسانی وقار کے خلاف ایک سنگین جرم ہے، جس کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ سماجی رویّوں میں مثبت تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ HRC-GB متاثرین کو قانونی معاونت اور رہنمائی فراہم کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔
جنرل سیکریٹری ہیومن رائٹس کونسل گلگت بلتستان صداقت علی ساحل نے کہا کہ آگاہی، تعلیم اور کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر جنڈر بیسڈ وائلنس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ اور سماجی انصاف کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں۔
اسی موقع پر جوائنٹ سیکریٹری ہیومن رائٹس کونسل گلگت بلتستان ایڈووکیٹ حبیبہ اسلم نے کہا کہ جنڈر بیسڈ وائلنس کے خاتمے کی ابتدا گھروں سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ بیٹیوں کو بیٹوں کے برابر سمجھا جائے اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو مساوی حقوق دیے جائیں، کیونکہ ایک مضبوط اور منصفانہ معاشرہ گھریلو سطح پر برابری کے عملی نفاذ سے ہی تشکیل پاتا ہے۔
دو روزہ سیشن کے دوران ایڈووکیٹ عاشی بتول نے خصوصی پریزنٹیشن پیش کی جس میں انسانی حقوق، جنڈر بیسڈ وائلنس اور ذمہ دارانہ زبان کے استعمال کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مثبت اور ذمہ دارانہ بیانیہ ہی تشدد اور امتیازی رویّوں کے خاتمے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
تقریب سے ہیومن رائٹس کونسل کے ممبران ایڈووکیٹ عاشی، نسیمہ شیخ، دیدار بیگ، جاوید ماس اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اجتماعی اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
سیشن میں ہیومن رائٹس کونسل آف گلگت بلتستان کی ٹیم نے خصوصی شرکت کی، جن میں انفارمیشن سیکریٹری کامران علی، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ایڈووکیٹ عاشی بتول سمیت دیگر اراکین شامل تھے، جنہوں نے سیشن کو کامیاب بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔
پروگرام خوشگوار اور مثبت ماحول میں منعقد ہوا۔ اختتام پر شرکاء میں اسناد (سرٹیفکیٹس) تقسیم کی گئیں، جبکہ شرکاء نے سیشن کو جنڈر بیسڈ وائلنس اور انسانی حقوق کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں نہایت مفید اور مؤثر قرار دیا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.