ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھارت کے مشرقی صوبے میں اس ہفتے دو نئے کیسز کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد صحت کے حکام نے مہلک نیپا وائرس کے پھیلاؤ پر سخت نگرانی شروع کر دی ہے۔
گھروں کی تعمیر کے لیے جدید روبوٹ ٹیکنالوجی متعارف
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، نیپا وائرس ایک خطرناک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے اور بعض اوقات انسان سے انسان تک بھی پھیل سکتا ہے۔ یہ وائرس پہلی بار 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا، جب متاثرہ سوروں سے لوگ بیمار ہوئے۔ بعد میں یہ بھارت، بنگلہ دیش، فلپائن اور سنگاپور میں بھی پھیل چکا ہے۔
نیپا وائرس کا اصل ذریعہ پھل کھانے والے چمگادڑ ہیں، یہ چمگادڑ خود بیمار نہیں ہوتے، لیکن وائرس کو اپنے جسم میں رکھتے ہیں اور انسانوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ نیپا وائرس انسانوں میں کئی طریقوں سے منتقل ہو سکتا ہے، جن میں جانوروں سے براہ راست رابطہ، وائرس سے آلودہ پھل یا کھجور کا رس کھانے سے، یا مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت قریبی رابطے شامل ہیں۔
نیپا وائرس کی علامات عام طور پر چار سے چودہ دن بعد ظاہر ہوتی ہیں، اور بعض کیسز میں یہ پینتالیس دن تک بھی ہو سکتی ہیں۔ اہم علامات میں بخار، سر درد اور عضلات میں درد، قے اور گلے میں خراش، چکر آنا یا کمزوری، اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ شدید کیسز میں دماغ کی سوزش، دورے اور کوما بھی ہو سکتے ہیں۔
فی الحال نیپا وائرس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے۔ علاج صرف سہارا دینے والا ہوتا ہے، یعنی مریض کی حالت سنبھالنا اور علامات کو کم کرنا۔ نیپا وائرس انتہائی خطرناک ہے اور اس سے مرنے کا تناسب چالیس سے پچہتر فیصد کے درمیان ہے۔ بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ پھل یا کھجور کو اچھی طرح دھو کر یا چھیل کر کھایا جائے، چمگادڑ کے پہنچنے والے علاقوں سے دور رہا جائے، بیمار جانوروں سے براہ راست رابطہ نہ کیا جائے، اور مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت ہاتھ صاف رکھے جائیں اور قریبی رابطہ کم کیا جائے۔