Gas Leakage Web ad 1

اسلام آباد میں SPE کی 31ویں سالانہ ٹیکنیکل کانفرنس کا آغاز، توانائی کے مقامی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی پر زور

اسلام آباد میں SPE کی 31ویں سالانہ ٹیکنیکل کانفرنس کا آغاز، توانائی کے مقامی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی پر زور

0

سوسائٹی آف پیٹرولیم انجینئرز پاکستان سیکشن کے زیر اہتمام 31ویں دو روزہ سالانہ ٹیکنیکل کانفرنس (اے ٹی سی) اور نمائش کا آغاز 28 جنوری 2026 کو سرینا ہوٹل اسلام آباد میں ہو گیا۔ اے ٹی سی پاکستان کی اپ اسٹریم آئل اینڈ گیس انڈسٹری کا سب سے بڑا اور اہم پلیٹ فارم تصور کیا جاتا ہے، جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے آئے 1500 سے زائد مندوبین ایک جگہ جمع ہوئے۔ کانفرنس میں آئل اینڈ گیس انڈسٹری کے رہنماؤں، جیو سائنسٹس، انجینئرز، پالیسی سازوں، اکیڈمیا اور عالمی اسٹیک ہولڈرز کو اسٹریٹجک مباحثے اور تکنیکی تبادلہ خیال کے مواقع فراہم کیے گئے۔

Gas Leakage Web ad 2

بلوچستان میں گرینڈ الائنس کے خلاف ظلم زیادتی گرفتاریاں یا ڈنڈا نہیں بلکہ مکالمہ مسلے کا واحد حل ہے

افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی تھے۔ تقریب میں ملکی اور بین الاقوامی ای اینڈ پی کمپنیوں، سروس پرووائیڈرز اور تعلیمی اداروں کے منیجنگ ڈائریکٹرز، سی ای اوز اور اعلیٰ قیادت کے علاوہ مختلف ممالک سے آئے مندوبین نے بھی شرکت کی۔

اے ٹی سی 2026 کا موضوع “مقامی وسائل پر انحصار سے توانا مستقبل کا آغاز: پائیدار، مستحکم اور بہتر حکمتِ عملی” رکھا گیا ہے، جس کا مقصد مقامی وسائل کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے ذریعے پاکستان کی توانائی سلامتی پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

کانفرنس کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے ماڑی انرجیز کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او فہیم حیدر، جو اے ٹی سی 2026 کے چیئرمین بھی ہیں، نے کہا کہ پاکستان کے توانائی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے شعبے کو مقامی وسائل اور جدت پر مبنی اقدامات اپنانا ہوں گے۔ انہوں نے آف شور بڈ راؤنڈ 2025 سے پیدا ہونے والی نئی امیدوں، ڈیٹا پر مبنی جیو سائنس اور انجینئرنگ حل، ڈیجیٹلائزیشن اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا، جو کارکردگی میں بہتری، تحفظ اور لاگت میں کمی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ ہنر مند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔

تقریب کے دوران مہمانِ خصوصی نے میگا ایگزیبیشن اینڈ آئل شو کا افتتاح بھی کیا، جہاں ملکی اور غیر ملکی نمائندگان نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا۔ نمائش میں جدید ڈرلنگ سسٹمز، سب سرفیس امیجنگ، اسمارٹ کمپلیشنز، پروڈکشن آپٹیمائزیشن اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی جدید ٹیکنالوجیز پیش کی گئیں۔

سالانہ ٹیکنیکل کانفرنس کے تحت جدید اور آزمودہ ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور صنعت و تعلیم کے باہمی اشتراک سے پاکستان کے ای اینڈ پی سیکٹر کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا گیا، جس سے آپریشنل کارکردگی میں بہتری، پرانے فیلڈز سے پیداوار میں اضافہ اور مقامی ہائیڈروکاربن وسائل کی ذمہ دارانہ ترقی کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کانفرنس کے منتظمین، اسپانسرز اور صنعتی رہنماؤں کی کاوشوں کو سراہا اور پائیداری، توانائی سلامتی اور منصوبہ بندی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے ای اینڈ پی سیکٹر کی بحالی اور معاونت کے لیے کیے گئے پالیسی اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اے ٹی سی علمی تبادلے اور اپ اسٹریم سیکٹر کی طویل المدتی ترقی و استحکام کے لیے ایک مؤثر فورم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آف شور اور آن شور بڈ راؤنڈز میں کامیابی، بالخصوص ترکش پیٹرولیم، یونائیٹڈ انرجی اور نئے مقامی ادارے فاطمہ پیٹرولیم کی شمولیت، حکومتی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاس ہے۔

کانفرنس کے دوران جیو سائنس اور پیٹرولیم انجینئرنگ کے شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز اکیڈمیا اور انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات محمد ریاض خان، پروفیسر عارف علی، میر غضنفر اور محمد معروف کو پیش کیے گئے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.