کراچی:
حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی میں اسٹیبلشمنٹ نے فساد پھیلایا اور وہی ختم کرے، اب بہت ہو گیا ہے، اسٹیبلشمنٹ کو پروجیکٹ پیپلز پارٹی اور پروجیکٹ بلاول ختم کرنا ہوگا۔
جماعت اسلامی کراچی کے مرکزی دفتر ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گل پلازہ واقعے کے بعد کراچی کے لوگ نظام سے مایوس ہیں، شہر میں شدید غم و غصہ ہے اور لوگ سمجھ رہے ہیں کہ اس شہر کا کوئی والی وارث نہیں، کراچی کو رہنے اور جینے کے قابل نہیں چھوڑا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ جنہوں نے کرپٹ مافیا کو کراچی پر مسلط کیا ہے، انہیں اب جواب دینا ہوگا۔ جنہوں نے قبضہ، میئر اور فارم 47 کے ذریعے فساد کیا، وہی اسے ٹھیک کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ کا عہدے پر رہنے کا کوئی جواز نہیں، انہیں اپنی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کب تک ان مافیاز کو ہم پر مسلط کرتی رہے گی، دھندے بازی ختم کی جائے، لوگوں کی رائے کا احترام کیا جائے۔ کراچی کے مسئلے کا حل صوبہ یا وفاقی کنٹرول میں نہیں بلکہ آئین کے مطابق بااختیار بلدیاتی حکومت کے قیام میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صرف اس بات میں دلچسپی رکھتی ہیں کہ کراچی سے مال کیسے بنایا جائے۔ گل پلازہ میں آگ لگی، لیکن پوری صوبائی حکومت کے پاس آگ بجھانے کا انتظام نہیں تھا، فائر فائٹرز کے پاس پی پی ایز اور ماسک موجود نہیں تھے اور دس دس گیارہ گیارہ سال سے فائر فائٹرز کی ٹریننگ نہیں ہوئی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی میں پروجیکٹس مکمل نہیں ہو کر دیے جا رہے، ہمارے ٹیکس کے پیسے سے بننے والے پروجیکٹس ان کی کرپشن کی وجہ سے نامکمل ہیں۔ کراچی میں 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے، لیکن سندھ حکومت پانچ ڈبل ڈیکر بسیں لا کر کہتی ہے کہ ہم نے ٹرانسپورٹ فراہم کر دی، جبکہ شرجیل میمن اشتہارات پر زیادہ پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایل ڈی اے، ایم ڈی اے اور دیگر اداروں پر حکومت سندھ قابض ہے، کراچی میں بااختیار سٹی گورنمنٹ ہونی چاہیے، شہر پر میئر قابض ہے اور جماعت اسلامی کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ یکم فروری کو کراچی میں شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ ہوگا، جس میں آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ یہ صرف مارچ برائے مارچ نہیں بلکہ مارچ ان مافیاوں سے نجات دلانے کے لیے ہوگا اور کراچی کو وڈیرہ شاہی نظام سے آزاد کرایا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وہ بورڈ آف پیس کو مسترد کرتے ہیں اور وزیر اعظم کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں جو ٹرمپ کی تعریفیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ایک بار پھر امریکا کی گود میں بیٹھ گئے ہیں، ٹرمپ نے فلسطینی بچوں کو مارنے کے لیے نیتن یاہو کو ہتھیار دیے اور کہا کہ نیتن یاہو نے ان ہتھیاروں کا بہترین استعمال کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جہاں بورڈ آف پیس معاہدے پر دستخط کیے گئے، وہاں ٹرمپ نے کہا کہ وہ حماس کو فنا کردے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ اسرائیل کے بجائے فلسطین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ ہم قائداعظم کے پیروکار ہیں اور اسرائیل کے لیے قائداعظم کے اقوال کی تائید کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے آرمی چیف بتاتے ہیں کہ ملک اسلام کے نظریے پر قائم ہوا ہے، لیکن ساتھ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اسرائیل کے لیے آئین کیا کہتا ہے اور قائداعظم کے اقوال کیا ہیں، اور آرمی چیف کو یہ بھی بتانا چاہیے۔