اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد دو سے تین مختلف مالیت کے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کی چھپائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے پیر کو مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں ہے اور کابینہ کی منظوری ملتے ہی چھپائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس کی چھپائی کا عمل کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے، کابینہ کی منظوری کے بعد جلد چھپائی شروع ہو جائے گی اور دو سے تین مختلف مالیت کے نوٹس ایک ساتھ چھاپے جائیں گے۔
جے یو آئی اور تحریک تحفظ آئین 8 فروری کو الگ الگ یوم سیاہ منائیں گی
جمیل احمد نے کہا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوں گے بلکہ انہیں مرحلہ وار گردش میں لایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ نئے نوٹس اس وقت گردش میں متعارف کرائے جائیں گے جب مرکزی بینک موجودہ کرنسی نوٹس کو بتدریج تبدیل کرنے کے لیے مناسب مقدار میں اسٹاک حاصل کر لے گا۔
تاہم گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ وضاحت نہیں کی کہ سب سے پہلے کن مالیت کے نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ اس وقت ملک میں 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے نوٹس زیر گردش ہیں۔
جمیل احمد کا کہنا تھا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے تھے، جنہیں بعد میں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم آفس نے بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹس کے نئے ڈیزائن سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا تھا اور اس مقصد کے لیے کابینہ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ کرنسی نوٹس کی ازسر نو ڈیزائننگ جدید تقاضوں کے مطابق اور بین الاقوامی ماہرین کی معاونت سے کی جا رہی ہے۔