کراچی: مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج منعقد ہوگا جس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے شرح سود کا تعین کیا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اس اجلاس کو معاشی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ سرمایہ کاروں اور تاجروں کی جانب سے پالیسی ریٹ کے سنگل ڈیجیٹ میں آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
چین سے پاکستان کے لیے امدادی سامان کی چوتھی کھیپ کراچی پہنچ گئی
گزشتہ مانیٹری پالیسی جائزے میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کی سطح پر لے آیا تھا۔
واضح رہے کہ افراط زر اسٹیٹ بینک کے مقررہ اہداف کے مطابق رہنے کے باعث شرح سود میں مزید کمی کی توقعات ہیں، اور آج کے اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ متوقع ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پالیسی ریٹ گزشتہ چار سال سے دہرے ہندسوں میں رہا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ شرح سود کے سنگل ڈیجیٹ میں آنے سے معیشت کے بحالی اور استحکام کی جانب جانے کا واضح پیغام ملے گا، جس سے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے رجحان کو تقویت ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔