پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے عوامی تنقید کے بعد منرل ڈویلپمنٹ کمپنی پر عملدرآمد روک دیا ہے۔
تنقید کے بعد صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا منرل ڈویلپمنٹ کمپنی پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام بھی جاری کیا۔
گل پلازہ کی زمین کب ، کس نے اور کس کو الاٹ کی؟ ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی
وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ جیسے انرجی اور تیل و گیس کے لیے اپنی کمپنی بنائی جا چکی ہے، ایسی ہی صوبائی حکومت معدنیات کے لیے بھی ایک کمپنی بنانا چاہتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اپنے قیمتی وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں اور غیرقانونی مائننگ اور مافیاز کا خاتمہ ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ میں پیش ہونے والا بل مائنز اینڈ منرل بل 2025 نہیں تھا بلکہ خیبر پختونخوا منرل ڈویلپمنٹ کمپنی بنانے کا بل تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام میں مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے کئی چیزوں کو لے کر ابہام اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لہٰذا وہ اس کمپنی اور قانون سازی کے عمل کو فی الحال یہیں پر روک رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام کا اعتماد ہی ہماری اولین ترجیح ہے۔