پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 603 ملین ڈالر مالیت کے تین اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں جس کا باضابطہ اعلان اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے میں کیا گیا ہے۔ یہ معاہدے اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد طے پائے ہیں جن کے تحت اسلامی ترقیاتی بینک پاکستان کو سماجی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا۔ ان معاہدوں میں موٹروے کے ایک اہم حصے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سماجی بہبود کے دو بڑے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
سعودی عرب نے آف روڈ گاڑیوں کے قافلے کا منفرد عالمی ریکارڈ بنا لیا
اعلامیے کے مطابق ان قرضوں کی رقم ایم-6 سکھر-حیدرآباد موٹروے منصوبے کی تعمیر کے لیے استعمال کی جائے گی جو ملک کے مواصلاتی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ فنڈز کا ایک بڑا حصہ انتہائی غریب اور سیلاب سے متاثرہ گھرانوں کے لیے ‘غربت سے نجات کے منصوبے’ (پی جی ای پی) پر خرچ کیا جائے گا، جس کا نفاذ منتخب کردہ انتہائی پسماندہ اضلاع اور سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں کیا جائے گا تاکہ وہاں کے مکینوں کی معاشی حالت کو بہتر بنایا جا سکے۔
ان منصوبوں میں ایک اہم حصہ آزاد جموں و کشمیر کے لیے بھی مختص کیا گیا ہے جہاں اسکول سے باہر بچوں کی تعلیمی عمل میں واپسی کے منصوبے کی مالی معاونت کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد دور افتادہ علاقوں میں تعلیم کی شرح کو بڑھانا اور بچوں کو بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اسلامی ترقیاتی بینک ان سماجی منصوبوں کے ذریعے پاکستان میں انسانی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
سرکاری اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے قلیل مدتی کموڈٹی فنانسنگ کی مد میں 700 ملین ڈالر کا جو عہد کیا گیا تھا، اس پر بھی عمل درآمد جاری ہے۔ اس رقم میں سے بینک اب تک رواں مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران 383.78 ملین ڈالر جاری کر چکا ہے۔ یہ مالیاتی تعاون پاکستان کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔