اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری سے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں قیام امن اور استحکام کے حوالے سے مفتی منیب اور دیگر علمائے کرام کی گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
ایمان مزاری، ہادی علی کیخلاف ایف آئی آر لیک کرنے کا الزام، ضلعی کچہری لیگل برانچ کو تالا لگادیاگیا،
ملاقات کے دوران فریقین کے مابین اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ درپیش مسائل کے حل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور ان کے مستقل حل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں مفتی منیب الرحمن اور دیگر علمائے کرام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی مسائل کے حل کے لیے قابل عمل سفارشات مرتب کر کے پیش کرے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی منیب الرحمن پوری قوم کے لیے قابل احترام شخصیت ہیں جو ہمیشہ اتحاد، اتفاق اور ملکی یکجہتی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مفتی صاحب معاشرے کو متحد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور ہم سب کا یہ پختہ عزم ہے کہ پاکستان سب سے پہلے ہے۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے بھی علمائے کرام کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
اس اہم ملاقات کے اختتام پر مفتی منیب الرحمن نے ملک کی سالمیت، ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کروائی۔ وفد میں علامہ لیاقت حسین اظہری، مفتی عابد مبارک المدنی اور ملک محمد ابراہیم شامل تھے، جبکہ حکومتی سطح پر وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی اور دیگر متعلقہ حکام بھی وہاں موجود تھے۔