**فافن رپورٹ: سندھ کے سرکاری محکمے معلومات کے اظہار میں نمایاں طور پر ناکام**
اسلام آباد: فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی نئی رپورٹ کے مطابق سندھ کے سرکاری محکمے قانون کے تحت مطلوب معلومات کا صرف 54 فیصد عوام تک پہنچا رہے ہیں۔ قانون کے تحت سرکاری اداروں کو 14 اقسام کی معلومات اپنی ویب سائٹس پر شائع کرنا لازمی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ کے 36 سیکریٹریٹ اور 25 منسلک محکموں کی ویب سائٹس کا جائزہ لیا گیا۔ بنیادی تنظیمی معلومات جیسے محکمے کے فرائض اور ذمہ داریاں 95 فیصد ویب سائٹس پر دستیاب ہیں۔ عوامی خدمات اور متعلقہ قوانین کی معلومات بھی 95 فیصد اداروں نے جاری کیں۔
سمیرا بانو صدیقی یوکے ورک پرمٹ اور پیپر میرج اسکینڈل میں عدالتی حکم پر گرفتار
تاہم انتظامی اور مالیاتی شفافیت سے متعلق اہم شعبوں میں صورت حال انتہائی ناقص ہے۔ صرف 15 فیصد محکموں نے فیصلہ سازی کے طریقہ کار اور 10 فیصد نے انتظامی و ترقیاتی فیصلوں کی تفصیلات شائع کیں۔
مزید بتایا گیا کہ سبسڈی اور مراعات پانے والوں کی معلومات صرف 5 سے 7 فیصد اداروں نے جاری کیں۔ معلومات تک رسائی کے لیے مختص افسران کے رابطہ نمبر صرف 14 فیصد ویب سائٹس پر درج ہیں۔ سیکریٹریٹ ڈپارٹمنٹس نے 59 فیصد جبکہ اٹیچڈ ڈپارٹمنٹس نے صرف 48 فیصد معلومات جاری کیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت سندھ کے محکموں میں سب سے بہتر کارکردگی فنانس، انویسٹمنٹ اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی رہی۔ اطلاعات کے مطابق معلومات کی یہ کمی نہ صرف شفافیت میں رکاوٹ ہے بلکہ غلط اطلاعات اور افواہوں کو پھیلنے کا موقع بھی دیتی ہے۔
فافن نے رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ سرکاری اداروں کو اپنی ڈیجیٹل موجودگی کو بہتر بنا کر بروقت اور مستند معلومات عوام تک پہنچانی چاہیے۔