کراچی: رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملک کی برآمدات میں واضح کمی درج کی گئی ہے، جس سے قومی تجارت اور معیشت کو ایک بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ ماہرین نے اس رجحان کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے حکومت کی طرف سے فوری اقدامات کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔
گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا نے علیحدگی کی خبروں کو مسترد کر دیا
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف شعبوں کی برآمدات میں نمایاں تنزلی آئی ہے۔ غذائی اجناس کی برآمدات میں 40.29 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جن کی مالیت 2 ارب 36 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں غذائی اجناس کی برآمدات تقریباً 4 ارب ڈالر تھیں۔
اسی طرح چاول کی برآمدات میں 49.90 فیصد کی کمی، سبزیوں کی برآمدات میں 36.80 فیصد کی کمی، مقامی خشک میوہ جات کی برآمدات میں 63.78 فیصد کی کمی، اور پلاسٹک مصنوعات کی برآمدات میں 43.66 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔
فارماسوٹیکل مصنوعات کی برآمدات میں 28.67 فیصد کی کمی جبکہ ٹرانسپورٹ کے سامان کی برآمدات میں 36.51 فیصد کی کمی مشاہدے میں آئی ہے۔ اس کے برعکس ٹیکسٹائل شعبہ اپنی برآمدات میں معمولی اضافہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جس کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات کی مالیت 9 ارب 16 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔ تاہم مجموعی برآمدات میں کمی کے سبب معیشت پر دباؤ جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات میں عالمی طلب میں کمی، برآمدی اخراجات میں اضافہ، رسد اور منڈیوں تک رسائی کے مسائل، نیز عالمی منڈیوں میں مسابقت کا بڑھتا ہوا دباؤ شامل ہیں۔