تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئین ایک مقدس وعدہ ہے اور اگر اسے توڑا گیا تو ریاست اور عوام کے درمیان رشتے خراب ہوں گے۔ جامشورو میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں پر عائد پابندی کو غیر انسانی قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ حکمرانی میں سب کا حصہ ہونا چاہیے اور ملک کی تمام زبانوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے قائم مقام امریکی سفیر کی ملاقات، سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک کی خارجہ پالیسی پارلیمنٹ کو بنانی چاہیے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر غور و خوض کے لیے ایک گول میز کانفرنس بلائی جائے۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ آئین کی پاسداری ہی ملک کی بقا کی ضمانت ہے اور اس عہد سے انحراف کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
بعد ازاں حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ نظام میں موجود خامیوں اور "کھوٹے سکوں” کو ہٹانے کے لیے تحریک چلانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا موجودہ نظام اچھا ہے مگر اسے چلانے کی نیت ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو درست طریقے سے چلانا ہے تو تمام قوموں کو ان کا جائز حصہ دینا ہوگا، اسی صورت میں ملک ترقی کر سکے گا۔
محمود خان اچکزئی نے تجویز دی کہ تین روزہ گول میز کانفرنس منعقد کی جائے جس میں تمام فریقین مل کر ایک دوسرے کی بات سنیں اور ملک کو درپیش مسائل کا حل نکال کر اسے آگے بڑھائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی کو گالی دینے کے قائل نہیں ہیں بلکہ صرف سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے نواز شریف اور آصف زرداری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ چند کپ چائے کے سوا ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور جب بھی وہ آئیں گے، وہ انہیں چائے پلا دیں گے۔