یورپ میں پاکستانی قالینوں کی مقبولیت میں اضافہ، برآمد کنندگان کو نئی امید
پاکستانی ہاتھ سے بنے روایتی قالینوں نے یورپی مارکیٹ میں اپنی منفرد پہچان بنانا شروع کر دی ہے۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں جاری گھریلو مصنوعات کی عالمی نمائش ‘ہیم ٹیکسٹل’ میں پہلی بار قائم کردہ پاکستانی قالینوں کے قومی پویلین کو یورپی خریداروں کی بھرپور پزیرائی ملی ہے۔
امریکہ کا بڑا امیگریشن فیصلہ: 75 ممالک کے شہریوں کے لیے گرین کارڈ پروسیسنگ عارضی طور پر معطل
نمائش میں شامل دس پاکستانی کمپنیوں، جن میں زیادہ تر چھوٹے برآمد کنندہ شامل ہیں، کو توقع سے بہتر تجارتی ردعمل ملا ہے۔ یہ پیشرفت اس لحاظ سے خاصی اہم ہے کیونکہ پاکستانی قالین سازی کی برآمدات گزشتہ دو دہائیوں میں 35 کروڑ ڈالر سے گر کر محض 7 کروڑ ڈالر سالانہ تک محدود ہو چکی ہیں۔
پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عتیق الرحمن نے بتایا کہ یہ صنعت گزشتہ 25 سال سے بغیر کسی سرکاری سبسڈی یا معاونت کے اپنے وسائل پر چل رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قالین سازی پاکستان کا ثقافتی ورثہ ہے اور اسے بچانے کے لیے حکومتی سرپرستی ناگزیر ہے۔
امریکی مارکیٹ میں بھارتی مصنوعات پر عائد اضافی ٹیرف سے پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، تاہم میاں عتیق کے مطابق بھارت نے اپنے برآمد کنندگان کو سبسڈی بڑھا کر اس اثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی قالینوں کی مضبوطی اس کی روایتی دستکاری اور ہاتھ سے بنی ہوئی مخصوص قسم میں ہے، جو جدید لومز پر بنے قالینوں سے الگ شناخت رکھتی ہے۔
برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مناسب توجہ اور پالیسی سپورٹ فراہم کرے تو پاکستانی قالین بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔