پنجاب حکومت نے صوبے میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری محکموں میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب کے مطابق اب سے سرکاری سطح پر صرف الیکٹرک یا ہائبرڈ گاڑیاں ہی خریدی جا سکیں گی، تاہم فیلڈ ڈیوٹی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
حضرت عیسٰیؑ کے زمانے سے بھی تقریبا 1000 سال پہلے کا درخت جو آج بھی پھل دے رہا ہے
چیف سیکرٹری نے مزید واضح کیا کہ صوبے میں نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی جلد متعارف کرائی جائے گی اور اب نئے پیٹرول پمپس کے لیے این او سی (NOC) کے حصول کو الیکٹرک چارجنگ یونٹ کی تنصیب سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ کسی بھی نئے پیٹرول پمپ کو اس سہولت کے بغیر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ ‘گرین انرجی’ کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب کے 31 شہروں میں 170 نئے پیٹرول پمپس کے لیے ای-بز پورٹل کے ذریعے این او سیز جاری کیے گئے ہیں اور ان تمام مقامات پر الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ملکی خزانے پر ایندھن کا بوجھ کم کرنا اور صوبے میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ہے۔