متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کو امیگریشن کلیئرنس کے حوالے سے بڑی خوشخبری مل گئی ہے اور پاکستان و متحدہ عرب امارات کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس کے حوالے سے باضابطہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت پہلے مرحلے میں پائلٹ منصوبے کا آغاز کراچی سے ہو گا، جس کے بعد اسے مرحلہ وار دیگر شہروں تک بڑھا دیا جائے گا۔
ایلون مسک کا بڑا اقدام، ایران میں اسٹارلنک کے ذریعے مفت انٹرنیٹ بحال
دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تحت مسافروں کی امیگریشن کلیئرنس پاکستان میں ہی مکمل کی جائے گی۔ اس عمل سے یو اے ای پہنچنے پر پاکستانیوں کو امیگریشن کی طویل کارروائی سے نجات ملے گی۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے متحدہ عرب امارات کے ڈی جی کسٹمز و پورٹ سیکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی میں یو اے ای کے وفد نے ملاقات کی، جس میں تعلقات، باہمی تعاون اور امیگریشن کے عمل کو آسان بنانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کو بھی بڑی سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پری امیگریشن کلیئرنس کے نئے نظام کے تحت تمام عمل پاکستان میں مکمل ہونے سے مسافروں کو یو اے ای پہنچنے پر امیگریشن کی قطاروں اور تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔