کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں پولن الرجی کا باعث بننے والے جنگلی شہتوت کے درختوں کو کاٹ کر مقامی درخت لگانے کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب 2030 تک مشترکہ طور پر حفاظتی ویکسین کی تیاری شروع کردیں گے، وزیر صحت
ذرائع کے مطابق، سپریم کورٹ کے احکامات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم، مطلوبہ درختوں کی کٹائی کے دوران ٹھیکیدار نے مقررہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے تقریباً چار ایکڑ کے علاقے میں موجود جنگلی شہتوت کے ساتھ ساتھ دیگر درخت بھی کاٹ دیے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ کٹائی بغیر مناسب نشاندہی اور شناخت کے کی گئی، جس سے دارالحکومت کے ایک علاقے میں درختوں کا بڑا حصہ ختم ہو گیا۔ سی ڈی اے کا مقصد ماحول دوست مقامی درختوں کی شجرکاری تھا، لیکن اس عمل میں درختوں کے غیر ضروری نقصان کے بعد صورتحال تنقید کا شکار ہو گئی ہے۔