حکومت نے اسلام آباد میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نظام کو ختم کرکے دارالحکومت کو تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کراچی ملک کا انتہائی اہم شہر ہے اسے تھریٹس موجود ہیں، وزیر داخلہ سندھ
ذرائع کے مطابق، نئے نظام کے تحت قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر تین ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔ ہر ٹاؤن میں ایک میئر اور دو نائب میئر ہوں گے، جس کے نتیجے میں شہر میں کل **3 میئرز اور 6 نائب میئرز** کی تقرری ہوگی۔ میئر اور نائب میئرز کی مدت چار سال تجویز کی گئی ہے۔
نئے ڈھانچے کے تحت ٹاؤن کارپوریشنز کو انتظامی اور مالی خودمختاری دی جائے گی، اور موجودہ سی ڈی اے کے متعدد اختیارات مرحلہ وار انہیں منتقل کیے جائیں گے۔ میئرز کو صفائی، نکاسی آب اور ترقیاتی منصوبوں جیسے اہم معاملات پر اختیارات سونپے جانے کا امکان ہے۔
انتخابی عمل کے مطابق، میئر اور نائب میئر کا انتخاب براہ راست نہیں ہوگا، بلکہ **یونین کونسلز کے چیئرمین** ان کا انتخاب کریں گے۔ شہر کی 125 یونین کونسلز کو آبادی کے تناسب سے تین ٹاؤنز میں تقسیم کیا جائے گا۔
فیصلے کے بعد صدارتی آرڈیننس جاری ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نئی حد بندیوں اور انتخابی شیڈول کا اعلان کرے گا۔ اس نئے نظام سے مقامی سطح پر گورننس اور شہری سہولیات میں بہتری کی امید ہے۔