کراچی میں رئیس گوٹھ کے علاقے سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے حوالے سے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیوں اور سی ٹی ڈی نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران پہلے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا، جس کی معلومات کی بنیاد پر مزید دو ساتھیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پورا نیٹ ورک ابھی تک گرفت میں نہیں آیا، لیکن انٹیلی جنس ایجنسیوں، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی مستعدی سے امید ہے کہ باقی افراد بھی جلد پکڑے جائیں گے۔
وزیراعظم کی چھوٹے اور درمیانے کاروبار کیلیے آسان قرضوں کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت
وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ ماہ ائیرپورٹ پر چائنیز شہریوں کے حملے کے بعد سے تمام سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں اور مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہی کوششیں بلوچستان میں بھی جاری ہیں، جہاں مختلف ایجنسیاں مشترکہ آپریشن کر رہی ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ کراچی پر دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں، جو ملک کا اہم تجارتی مرکز اور بندرگاہ ہونے کے ناطے ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے اس کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
لنجار نے کہا کہ ائیرپورٹ حملے کے بعد سے کراچی میں کوئی بڑا دہشت گرد واقعہ پیش نہیں آیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ سیکیورٹی ادارے بروقت کارروائی کر رہے ہیں۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں کے ہدف شہری تھے، تاہم مزید تفتیش سے منصوبوں کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان دہشت گردوں کی بروقت گرفتاری سے شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا ہے۔ آخر میں، انہوں نے انٹیلی جنس ایجنسیوں، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عوام کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔