sui northern 1

آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا، حکومت نے مالی جھٹکوں سے بچنے کیلئے نیا نظام متعارف کرادیا

آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا، حکومت نے مالی جھٹکوں سے بچنے کیلئے نیا نظام متعارف کرادیا

0
Social Wallet protection 2

حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کرتے ہوئے مالی جھٹکوں سے بچنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کا نیا مانیٹرنگ فریم ورک متعارف کرا دیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ان منصوبوں سے حکومت پر مالی دباؤ 472 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس کے پیش نظر اب تمام صوبے اور وفاق ہر چھ ماہ بعد پی پی پی منصوبوں کی رپورٹ فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

sui northern 2

پاکستان اور چین کا دہشتگردی کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پی پی پارٹنرشپ منصوبوں میں 368 ارب روپے کے ہنگامی نوعیت کے واجبات اور ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اضافے کی مد میں 150 ارب روپے سے زائد کے واجبات شامل ہیں جبکہ مجموعی واجبات میں مالی گارنٹیز کا حصہ 104 ارب روپے ہے۔ ملک بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 36 منصوبوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے جس کے مطابق سندھ میں سب سے زیادہ 335.6 ارب روپے کا مالی خطرہ موجود ہے۔ دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت کے منصوبوں سے 90.6 ارب روپے اور پنجاب کے منصوبوں سے 26.5 ارب روپے کی ذمہ داریاں شامل ہیں اور یہ اعداد و شمار دسمبر 2025 تک کے عارضی تخمینوں پر مبنی ہیں۔

وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پی پی پارٹنرشپ معاہدوں کے مالی خطرات بجٹ میں فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے تھے تاہم اب ان منصوبوں کے مالی خطرات اور قرضہ جات کو باقاعدہ رپورٹس کا حصہ بنایا جائے گا۔ ان منصوبوں میں کم از کم آمدن کی گارنٹی اور شرح سود کے ساتھ ساتھ ڈالر کے ریٹ اور لاگت میں اضافہ بھی بڑے مالی خطرات میں شامل ہیں جن کی اب کڑی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.