وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد نے انسانی اسمگلنگ اور بیرونِ ملک روزگار فراڈ میں ملوث ایک ویزا فراڈ ایجنٹ کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم وفاقی دارالحکومت میں ’’برلن امیگریشن سلوشنز‘‘ کے نام سے غیر قانونی ایجنسی چلا رہا تھا اور بیرونِ ملک ملازمت کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے شہریوں کو لوٹ رہا تھا۔
لکی مروت اور بنوں میں فائرنگ سے 4 پولیس اہلکار شہید
ایف آئی اے کے ایک عہدیدار نے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا کہ گرفتار ملزم کی شناخت آصف ندیم کے نام سے ہوئی ہے، جس نے برطانیہ میں ملازمت دلوانے کا جھانسہ دے کر ایک شہری سے 19 لاکھ روپے ہتھیا لیے۔ عہدیدار کے مطابق ملزم کے پاس نہ تو بیرونِ ملک روزگار فراہم کرنے کی قانونی اجازت تھی اور نہ ہی وہ کسی سرکاری ادارے سے رجسٹرڈ تھا۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم ایک منظم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ تھا، جو بیرونِ ملک ویزا اور ملازمت دلوانے کے جعلی دعوؤں کے ذریعے سادہ لوح شہریوں کو نشانہ بناتا تھا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم نے متاثرہ شہری سے بھاری رقم وصول کی تاہم نہ کوئی قانونی سفری دستاویزات فراہم کیں اور نہ ہی ملازمت سے متعلق کوئی مستند ثبوت دیا۔
متاثرہ شہری کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر ایف آئی اے نے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا، جس کے بعد چھاپہ مار کارروائی کے دوران ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ دورانِ تفتیش ویزا فراڈ، غیر قانونی بھرتی اور مالی لین دین سے متعلق شواہد بھی برآمد ہوئے ہیں۔ ایف آئی اے عہدیدار نے مزید بتایا کہ نیٹ ورک سے منسلک دیگر ایجنٹس اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ مزید متاثرین کی نشاندہی اور مالی رقوم کے سراغ کے لیے تفتیش جاری ہے۔ ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ اور ویزا فراڈ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی دہراتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بیرونِ ملک روزگار کے کسی بھی انتظام سے قبل متعلقہ ایجنٹ کی تصدیق ایف آئی اے کے سرکاری پروٹیکٹر آف امیگرنٹس سے لازمی کروائیں، تاکہ کسی بھی فراڈ سے بچا جا سکے۔