فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہا ہے کہ برآمد کنندگان کے انکم ٹیکس گوشواروں کی جانچ پڑتال کے ذریعے ناجائز یا غیر منصفانہ ٹیکس عائد کرنے کا تاثر غلط، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔ ایف بی آر منصفانہ ٹیکس نظام، ٹیکس دہندگان کی سہولت کاری، اور ٹیکس قوانین کے نفاذ کو قانونی، شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ترجمان ایف بی آر نے برآمد کنندگان کے انکم ٹیکس گوشواروں کی جانچ پڑتال سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک خط گردش کر رہا ہے جسے ایف بی آر سے منسوب کیا جا رہا ہے اور اس سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ برآمد کنندگان کے انکم ٹیکس گوشواروں کی جانچ پڑتال کا مقصد ناجائز یا غیر منصفانہ ٹیکس عائد کرنا ہے، جو کہ حقیقت کے برخلاف ہے۔
ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے موثر پلیٹ فارم بن گیا
ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ برآمد کنندگان سے متعلق قانونی فریم ورک میں فنانس ایکٹ 2024 کے ذریعے ترمیم کی گئی جس کے تحت برآمد کنندگان پر لاگو نظام کو فائنل ٹیکس رجیم سے تبدیل کر کے کم از کم ٹیکس رجیم کر دیا گیا ہے، اور اس تبدیلی کا انعکاس ٹیکس سال 2025 کے انکم ٹیکس گوشواروں میں ہونا لازم ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ کسی بھی ممکنہ نیک نیتی پر مبنی یا دیگر نوعیت کی غلطیوں کے خدشے کو کم کرنے کے لیے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گوشواروں کا جائزہ لیں اور جہاں کہیں بھی قانونی عدم مطابقت کی نشاندہی ہو، وہاں قانون کے مطابق ان پر کارروائی اور پراسیسنگ کی جائے۔ انکم ٹیکس گوشواروں کی ڈیسک آڈٹ کے ذریعے جانچ پڑتال اور ٹیکس قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانا ایف بی آر کی آئینی اور بنیادی ذمہ داری ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ کسی بھی قسم کی عدم یکسانیت، غلط استعمال یا ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری زحمت سے بچانے کے لیے یہ عمل ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کی نگرانی میں شروع کیا گیا ہے۔ ترجمان نے اعادہ کیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو منصفانہ ٹیکس نظام، ٹیکس دہندگان کی سہولت کاری اور ٹیکس قوانین کے نفاذ کو قانونی، شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔