پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو ایک ایسی زیرک اور باوقار شخصیت تھیں کہ جو بھی ان سے ایک بار ملتا، وہ ان کی غیر معمولی ذہانت اور شخصیت کے اثر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔
بی بی شہید کو دنیا بھر میں اپنے چاہنے والوں، جیالوں، دوستوں اور عزیزوں سے بچھڑے اٹھارہ برس ہونے کو آئے ہیں تو یادوں کے دریچے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔ آج بہت سے لوگ محترمہ بینظیر بھٹو سے قربت کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ سن 2000 کے اوائل میں اعلیٰ حکومتی حلقوں کے قریب سمجھے جانے والے کامران ٹیسوری کا بھی سابق وزیر اعظم سے قریبی تعلق رہا۔
ایک انٹرویو میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بتایا کہ ایک پاکستانی بزنس مین کے ذریعے ان کی ملاقات بے نظیر بھٹو سے ہوئی، جس کے بعد ان کے گھر آنا جانا شروع ہوگیا۔ یہ وہ دور تھا جب بے نظیر بھٹو پاسپورٹ سے بھی محروم تھیں۔ گورنر سندھ کے مطابق انہوں نے بی بی سے وعدہ کیا تھا کہ پندرہ روز میں پاسپورٹ بنوا دیں گے اور یہ کام تیرہویں روز مکمل کر لیا گیا۔
کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے دورے کے دوران مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر بے نظیر بھٹو نے انہیں اپنا بھائی بنا لیا، جبکہ اجمیر شریف کے دورے میں بھی انہیں اپنے ساتھ رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ چار برس تک تقریباً روزانہ ہی ان کی بی بی سے ملاقات ہوتی رہی اور ان ملاقاتوں میں ڈاکٹر عاصم حسین بھی اکثر موجود ہوتے تھے۔
گورنر سندھ کے مطابق اس عرصے میں دبئی میں اگر بے نظیر بھٹو کہیں جاتیں تو وہ خود ان کی گاڑی ڈرائیو کرتے تھے۔ کامران ٹیسوری نے بتایا کہ ایک بار سالگرہ کے موقع پر شہید بی بی نے انہیں قیمتی کف لنکس تحفے میں دیے، جبکہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری ان کی یاٹ پر سالگرہ منانے بھی آئے اور ساتھ کیک کاٹا۔
یہ وہ وقت تھا جب بے نظیر بھٹو جلا وطنی ختم کر کے وطن واپسی کی تیاری کر رہی تھیں۔ اس دور میں دبئی میں موجود صحافیوں کو بھی بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف سے ملاقاتوں کے مواقع ملتے رہے۔ اسی دوران جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ڈیل کی خبر بھی سامنے آئی تھی۔
دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ: ہارپن داس ماڈل ولیج میں پلاٹس کی قرعہ اندازی سے متعلق وضاحت جاری
کامران ٹیسوری کے مطابق 18 اکتوبر کو تاریخی وطن واپسی کے موقع پر جیسے ہی بے نظیر بھٹو جہاز سے اتر کر گاڑی میں بیٹھیں تو انہوں نے ڈاکٹر عاصم حسین کے فون سے انہیں کال کی اور کہا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان آؤں گی تو پہلی کال آپ کو ہی کروں گی۔
بی بی اور ان کے چاہنے والوں کے درمیان تعلق کو لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ جو لوگ اس کرشماتی شخصیت سے ملے ہیں وہ جانتے ہیں کہ الفاظ اس رشتے کا حق ادا نہیں کر سکتے۔
جب گورنر سندھ سے یہ سوال کیا گیا کہ ایسی زیرک سیاستدان اور اس تعلق کے باوجود انہوں نے پیپلز پارٹی چھوڑ کر پہلے مسلم لیگ فنکشنل اور پھر ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت کیوں اختیار کی تو ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو سے ان کا تعلق سیاسی نہیں بلکہ بہن بھائی کا تھا، جبکہ صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے احترام کا رشتہ آج بھی قائم ہے۔
ایم کیو ایم ماضی میں پیپلز پارٹی کی بڑی حریف رہی اور 80 کی دہائی میں بے نظیر بھٹو پر سخت تنقید بھی کرتی رہی، تاہم اس کے باوجود گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی دل سے بے نظیر بھٹو کو اپنی بہن مانتے ہیں۔ ان کے مطابق 18 اکتوبر ہو یا 27 دسمبر، یہ تاریخیں صرف انہیں نہیں بلکہ پورے پاکستان کو یاد دلاتی ہیں کہ ہم نے ایک عظیم رہنما کو کتنی جلدی کھو دیا۔