‏اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی تنہائی میں ملاقات اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے ۔۔۔۔۔

0

اسلام آباد: اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان نجی ملاقات اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کی اجازت سے متعلق درخواست کی سماعت میں جسٹس ارباب محمد طاہر نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ کیس کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس:
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت میں واٹس ایپ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔ کیس کی سماعت راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی، جنہوں نے عمران خان کی جانب سے دائر کردہ دو درخواستوں پر سماعت کی۔ عمران خان کے وکلاء فیصل ملک اور سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت، دفاعی وکلاء نے 19 ستمبر کی کارروائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کی درخواست کی اور مطالبہ کیا کہ جب تک ہائی کورٹ جیل میں ٹرائل کی منتقلی سے متعلق فیصلہ نہیں دیتی، مقدمے کی کارروائی روک دی جائے۔

وکیل فیصل ملک نے کہا کہ جب تک عمران خان سے مشاورت نہیں ہو جاتی، وہ عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لینا چاہتے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت میں وکلاء کو اپنے موکل سے بات چیت کی اجازت دی گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ جج نے تجویز دی کہ واٹس ایپ پر رابطے کا معاملہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے کیونکہ مقدمے کی کارروائی غیر معینہ مدت تک نہیں روکی جا سکتی۔

پراسیکیوٹر نے دفاعی ٹیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بار بار عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر کے وقت ضائع کر رہے ہیں اور ٹرائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔

جواب میں وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کو آئین کے مطابق کام کرنا چاہیے، نہ کہ حکومتی ہدایات کے مطابق۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایک قیدی کو واٹس ایپ کال کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے وکلاء کو اپنے احکامات ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی اجازت دے دی، تاہم یہ واضح کیا کہ جب تک ہائی کورٹ سے کوئی ہدایت موصول نہیں ہوتی، مقدمہ جاری رہے گا۔ جج نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ ہائی کورٹ کی ہدایات کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد، عدالت نے عمران خان کی دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

بعد ازاں، عمران خان اسی کیس میں واٹس ایپ لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ دفاعی وکلاء نے دورانِ سماعت اپنے موکل سے بات کرنے کی اجازت طلب کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ تاہم، ناقص آڈیو اور غیر واضح ویڈیو کی بنا پر وکلاء نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور عدالت سے چلے گئے۔

سماعت کے دوران، عدالت نے استغاثہ کے آٹھ گواہوں کے بیانات قلمبند کیے، جن میں شامل تھے: پیمرا کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ندیر خان، ایف آئی اے کے ٹیکنیکل اسسٹنٹس انیس الرحمن اور محمد عمران، پی آئی ڈی کے ڈپٹی ڈائریکٹرز محمد طارق اور حسنین وزیر، سابق اسسٹنٹ کمشنر محمد عبداللہ، ارشاد بھٹی، اور وزارتِ داخلہ کے سیکشن آفیسر بلال احمد۔

اب تک اس کیس میں کل 41 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔ استغاثہ نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے، اور آئندہ سماعتوں کے لیے مزید گواہوں کو طلب کیا گیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.