پاکستان میں شدید گرمی، حاملہ خواتین اور نومولود کے لیے سنگین خطرہ

0

پاکستان میں شدید گرمی حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے، برطانوی جریدے اکنامسٹ کی رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں معمولی اضافہ بھی قبل از وقت پیدائش، مردہ بچوں کی پیدائش اور دیگر پیچیدگیوں کے امکانات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گرمی کی لہریں قبل از وقت پیدائش کے خطرے کو ایک چوتھائی سے زیادہ بڑھا دیتی ہیں، اور صرف ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ بھی چار فیصد اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔ سندھ کی ایک حاملہ خاتون نے بتایا کہ انچاس ڈگری کی گرمی میں انہیں چکر اور پانی کی شدید کمی کا سامنا ہوا، جس سے ان کی اور ان کے بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہوا۔ کراچی کی ایک یونیورسٹی کے تحت جاری تحقیق میں دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین پر مطالعہ کیا جا رہا ہے، تاکہ گرمی کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حمل کے دوران جسم میں ہونے والی تبدیلیاں خواتین کو شدید گرمی کے مقابلے میں زیادہ کمزور بنا دیتی ہیں، اور اسی دوران نومولود بچوں کی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت بھی محدود ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں خواتین اور بچے حمل یا پیدائش کے دوران جان سے جاتے ہیں اور گرمی کے بڑھتے اثرات اس تعداد کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ چین، بھارت اور نائجیریا جیسے ممالک میں ہزاروں قبل از وقت پیدائشیں اور نومولود بچوں کی اموات گرمی سے منسلک کی گئی ہیں۔ پاکستان میں ماہرین نے گھروں میں سستے اور آسان اقدامات جیسے چھتوں پر سایہ دار کپڑا اور دیواروں پر عکاس رنگ آزمانا شروع کیا ہے، تاہم عالمی سطح پر اب تک اس خطرے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ماہرین فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.