قومی مالیاتی کمیشن کا گیارہواں اجلاس انتیس اگست کو طلب کیا گیا ہے جس میں مرکز اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم پر غور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اجلاس میں قرضوں پر سود، انسداد دہشتگردی، بی آئی ایس پی اور دفاعی اخراجات سے متعلق تفصیلات صوبوں کو پیش کرے گی، جبکہ وزارتی کمیٹی پہلے ہی نئی حکمت عملی طے کر چکی ہے۔ کمیشن کی سربراہی وزیر خزانہ کریں گے اور چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ اور ماہرین بطور رکن شریک ہوں گے، جن میں پنجاب سے ناصر محمود کھوسہ، سندھ سے اسد سعید، خیبرپختونخوا سے ڈاکٹر مشرف رسول اور بلوچستان سے فرمان اللہ شامل ہیں۔ یاد رہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھا کر ستاون اعشاریہ پانچ فیصد جبکہ مرکز کا حصہ کم کر کے بیالیس اعشاریہ پانچ فیصد کیا گیا تھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس سے قبل بننے والے دس کمیشنوں میں سے صرف چار نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں، اور نئے اجلاس میں اتفاق رائے کا حصول مشکل اور ہنگامہ خیز ثابت ہونے کا امکان ہے۔