کے فور منصوبے پر کتنے ارب روپے خرچ ہو چکے، کتنا کام ہو گیا؟جانیے

0

ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے پاکستان پیپلز پارٹی کی طویل مدت پر محیط حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کے فور‘ منصوبے پر صوبائی حکومت نے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا، تاہم اب یہ منصوبہ تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔

 

 

 

اپنے بیان میں امین الحق نے کہا کہ کراچی کا انفراسٹرکچر تباہی کے دہانے پر ہے، جب کہ پیپلز پارٹی کی 18 سالہ صوبائی اور پانچ مرتبہ وفاقی حکومت کے باوجود شہری اور دیہی سندھ کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت کی کرپشن اور نااہلی انتہا پر ہے۔

 

 

 

امین الحق کا کہنا تھا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد پانی کی فراہمی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، مگر افسوس کہ ’کے فور‘ جیسے اہم منصوبے پر سندھ حکومت نے کوئی سرمایہ کاری نہیں کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کی کوششوں سے یہ منصوبہ اب وفاق کے زیر انتظام آ چکا ہے، جس کی لاگت 126 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، اس میں سے 82 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور منصوبہ 72 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔

 

 

 

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وفاق سے کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہری علاقوں کے لیے بڑے ترقیاتی پیکجز حاصل کیے جائیں تاکہ عوام کی محرومیوں کا ازالہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ میئر کراچی کی نااہلی کے باعث جو منصوبے مکمل نہیں ہو پا رہے، وہ ایم کیو ایم کے منتخب نمائندے اپنے ترقیاتی فنڈز سے مکمل کریں گے۔

 

 

 

امین الحق نے مزید کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ایم کیو ایم کو تاحال اعتماد میں نہیں لیا گیا، جب کہ ان کا وفاق سے معاہدہ ہے کہ ترمیم 140-A کے تحت ہونی چاہیے، جس کے ذریعے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں، اور میئر، چیئرمینز سمیت بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے

انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کا پیپلز پارٹی کے ساتھ سندھ میں مستقبل قریب میں کسی سیاسی اتحاد کا کوئی امکان نہیں، تاہم اگر پیپلز پارٹی کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کی ترقی، ترقیاتی پیکجز کی تقسیم اور اسکیموں کی تکمیل پر سنجیدگی سے بات کرنا چاہے تو ایم کیو ایم اس پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.